ٹیگ کے محفوظات: کاٹ

بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
پہلی سے پہلی تک دیکھوں دریا کا وُہ پاٹ
بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ
فوم کے نرم گدیلوں پر بھی دل پر نقش ملے
سایہ دار دھریک کے نیچے بان کی سادہ کھاٹ
سامنے جن کے سچ کے ننگا لگتا تھا ہر جھُوٹ
رہ گئے دُور وُہ لوگ پُرانے سیدھے سادھے جاٹ
ہر اُمید کے دامن پر پیوست رہیں ہر آن
درس میں اپنے شامل تھے جو اسکولوں کے ٹاٹ
جس بازار میں جاؤں دُوں مَیں نرخ سے بالا دام
کم اپنے اوزان میں نکلیں ہر تکڑی کے باٹ
قول کے کچّے لوگوں سے نسبت پر کیسا ناز
دھوبی کے کُتّے کا کیا ہے جس کا گھر نہ گھاٹ
سانپ نکل جانے پر ؔ اُس کی پِیٹ لکیر
محرومی کے ہاتھوں لے، بیٹھا انگوٹھے چاٹ
ماجد صدیقی

وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 77
میں اُس کی آنکھوں کا اک خواب تھا، مگر اِک رات
وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا
سنا تھا میں نے کہ فطرت خلاء کی دشمن ہے
سو وہ بدن مری تنہائیوں کو پاٹ گیا
مرے گماں نے مرے سب یقیں جلا ڈالے
ذرا سا شعلہ، بھری بستیوں کو چاٹ گیا
لچک کے ملنا تھا اُس تیز دھار سے عرفانؔ
تنے ہوئے تھے تو یہ وار تم کو کاٹ گیا
عرفان صدیقی

دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 35
تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اچاٹ
دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ
رچ رہی ہے کان میں یاں لے وہی
اور معنی نے کئی بدلے ہیں ٹھاٹ
ناؤ ہے بوسیدہ اور موجیں ہیں سخت
اور دریا کا بہت چکلا ہے پاٹ
دیر سے مسجد میں ہم آئے تو ہیں
ہے مگر یاں جی کچھ اے زاہد اچاٹ
تیغ میں برش یہ لے حالیؔ نہیں
جس قدر تیری زباں کرتی ہے کاٹ
الطاف حسین حالی