ٹیگ کے محفوظات: کان

میں پتھر کے پان بنانے والا تھا

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا
میں پتھر کے پان بنانے والا تھا
خوابوں کی تاویل سمجھ سے باہر تھی
جب میں پاکستان بنانے والا تھا
میری موت نے رستہ روکا ورنہ میں
لیّہ کو یونان بنانے والا تھا
حق باہو، حق باہو کہہ کر ایک فقیر
باہو کو سلطان بنانے والا تھا
مجھ ایسا بہلول کہاں سے لاؤ گے
نار سے جو ناران بنانے والا تھا
شہزادی نے جس کی خاطر زہر پیا
اک دیہاتی، نان بنانے والا تھا
آپ نے میرا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو
میں خود کو شیطان بنانے والا تھا
دروازوں کی شاکھ بچانے کی خاطر
دیواروں کے کان بنانے والا تھا
آپ کی اک اک بات غزل میں ڈھال کے میں
آن کی آن میں تان بنانے والا تھا
افتخار فلک

خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے

دیوان ششم غزل 1890
لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے
خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے
دل میں مسودے تھے بہت پر حضور یار
نکلا نہ ایک حرف بھی میری زبان سے
ٹک دل سے آئو آنکھوں میں ہے دید کی جگہ
بہتر نہیں مکان کوئی اس مکان سے
اول زمینیوں میں ہو مائل مری طرف
جو حادثہ نزول کرے آسمان سے
یہ وہم ہے کہ آنکھیں مری لگ گئیں کہیں
تم مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے
کھل جائیں گی تب آنکھیں جو مرجاوے گا کوئی
تم باز نئیں ہو آتے مرے امتحان سے
نامہربانی نے تو تمھاری کیا ہلاک
اب لگ چلیں گے اور کسی مہربان سے
زنبورخانہ چھاتی غم دوری سے ہوئی
وے ہم تلک نہ آئے کبھو کسر شان سے
تاثیر کیا کرے سخن میر یار میں
جب دیکھو لگ رہا ہے کوئی اس کے کان سے
میر تقی میر

مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں

دیوان ششم غزل 1850
اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں
مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں
رنگینی زمانہ سے خاطر نہ جمع رکھ
سو رنگ بدلے جاتے ہیں یاں ایک آن میں
شاید بہار آئی ہے دیوانہ ہے جوان
زنجیر کی سی آتی ہے جھنکار کان میں
بے وقفہ اس ضعیف پہ جور و ستم نہ کر
طاقت تعب کی کم ہے بہت میری جان میں
اس کے لبوں کے آگے کنھوں نے نہ بات کی
آئی ہے کسر شہد مصفا کی شان میں
چہرہ ہی یار کا رہے ہے چت چڑھا سدا
خورشید و ماہ آتے ہیں کب میرے دھیان میں
اب میرے اس کے عہد میں شاید کہ اٹھ گئی
آگے جو رسم دوستی کی تھی جہان میں
تارے تو یہ نہیں مری آہوں سے رات کی
سوراخ پڑگئے ہیں تمام آسمان میں
ابرو کی طرح اس کی چڑھی ہی رہے ہے میر
نکلی ہے شاخ تازہ کوئی کیا کمان میں
میر تقی میر

کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1593
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ
پایہ اس کی شہادت کا ہے عرش عظیم سے بالاتر
جو مظلوم عشق موا ہے بڑھ کر ٹک میدان کے بیچ
یوں ہی نظر چڑھ رہتی نہیں کچھ حسرت میں تو چشم سفید
دیکھی ہے ہیرے کی دمک میں اس چشم حیران کے بیچ
وہ پرکالہ آتش کا ہے صبح تلک بھڑکا بھی نہ تھا
کیا جانوں کیا پھونک دیا لوگوں نے اس کے کان کے بیچ
وعدے کرو ہو برسوں کے تم دم کا بھروسا ہم کو نہیں
کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے یاں اک پل میں اک آن کے بیچ
تبعیّت سے جو فارسی کی میں نے ہندی شعر کہے
سارے ترک بچے ظالم اب پڑھتے ہیں ایران کے بیچ
بندے خداے پاک کے ہم جو میر نہیں تو زیر فلک
پھر یہ تقدس آیا کہاں سے مشت خاک انسان کے بیچ
میر تقی میر

لاگ جی کی جس سے ہو دشمن ہے اپنی جان کا

دیوان پنجم غزل 1543
عشق ہو حیوان کا یا انس ہو انسان کا
لاگ جی کی جس سے ہو دشمن ہے اپنی جان کا
عاشق و معشوق کی میں طرفہ صحبت سیر کی
ایک جی مارے ہے مرہون ایک ہے احسان کا
میں خردگم عشق میں اس لڑکے کے آخر ہوا
یہ ثمر لایا نہ دیکھا چاہنا نادان کا
مرنا اس کے عشق میں خالی نہیں ہے حسن سے
رشک کے قابل ہے جو کشتہ ہے اس میدان کا
گر پڑیں گے ٹوٹ کر اکثر ستارے چرخ سے
ہل گیا جو صبح کو گوہر کسی کے کان کا
ہر ورق ہر صفحے میں اک شعرشورانگیز ہے
عرصۂ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
کیا ملاوے آنکھ نرگس اس کی چشم سرخ سے
زرد اس غم دیدہ کو آزار ہے یرقان کا
بات کرتے جائے ہے منھ تک مخاطب کے جھلک
اس کا لعل لب نہیں محتاج رنگ پان کا
کیا کہوں سارا زمانہ کشتہ و مردہ ہے میر
اس کے اک انداز کا اک ناز کا اک آن کا
میر تقی میر

اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں

دیوان چہارم غزل 1462
عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں
اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں
کس امید پہ ساکن ہووے کوئی غریب شہر اس کا
لطف نہیں اکرام نہیں انعام نہیں احسان نہیں
ہائے لطافت جسم کی اس کے مر ہی گیا ہوں پوچھو مت
جب سے تن نازک وہ دیکھا تب سے مجھ میں جان نہیں
کیا باتوں سے تسلی ہو دل مشکل عشقی میری سب
یار سے کہنے کہتے ہیں پر کہنا کچھ آسان نہیں
شام و سحر ہم سرزدہ دامن سر بگریباں رہتے ہیں
ہم کو خیال ادھر ہی کاہے ان کو ادھر کا دھیان نہیں
جان کے میں تو آپ بنا ہوں ان لڑکوں میں دیوانہ
عقل سے بھی بہرہ ہے مجھ کو اتنا میں نادان نہیں
پائوں کو دامن محشر میں ناچاری سے ہم کھینچیں گے
لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں
چاہت میں اس مایۂ جاں کی مرنے کے شائستہ ہوئے
جا بھی چکی ہے دل کی ہوس اب جینے کا ارمان نہیں
شور نہیں یاں سنتا کوئی میر قفس کے اسیروں کا
گوش نہیں دیوار چمن کے گل کے شاید کان نہیں
میر تقی میر

مگر آئے تھے میہمان سے لوگ

دیوان چہارم غزل 1423
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ
مگر آئے تھے میہمان سے لوگ
قہر ہے بات بات پر گالی
جاں بہ لب ہیں تری زبان سے لوگ
شہر میں گھر خراب ہے اپنا
آتے ہیں یاں اب اس نشان سے لوگ
ایک گردش میں ہیں برابر خاک
کیا جھگڑتے ہیں آسمان سے لوگ
درد دل ان نے کب سنا میرا
لگے رہتے ہیں اس کے کان سے لوگ
بائو سے بھی لچک لہک ہے انھیں
ہیں یہی سبزے دھان پان سے لوگ
شوق میں تیر سے چلے اودھر
ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ
آدمی اب نہیں جہاں میں میر
اٹھ گئے اس بھی کاروان سے لوگ
میر تقی میر

اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر

دیوان دوم غزل 806
کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر
اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر
کچھ ان دنوں اشارئہ ابرو ہیں تیزتیز
کیا تم نے پھر رکھی ہے یہ تلوار سان پر
تھوڑے میں دور کھینچے ہے کیا آدم آپ کو
اس مشت خاک کا ہے دماغ آسمان پر
کس پر تھے بے دماغ کہ ابرو بہت ہے خم
کچھ زور سا پڑا ہے کہیں اس کمان پر
کس رنگ راہ پاے نگاریں سے تو چلا
ہونے لگے ہیں خون قدم کے نشان پر
چرچا سا کر دیا ہے مرے شور عشق نے
مذکور اب بھی ہے یہ ہر اک کی زبان پر
پی پی کے اپنا لوہو رہیں گوکہ ہم ضعیف
جوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر
یہ وہم ہے کہ اور کا ہے میرے تیں خیال
تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان پر
کیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ
دیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر
دامن میں آج میر کے داغ شراب ہے
تھا اعتماد ہم کو بہت اس جوان پر
میر تقی میر

صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ

دیوان دوم غزل 788
آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ
صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ
ہم نہ کہتے تھے کہیں زلف کہیں رخ نہ دکھا
اک خلاف آیا نہ ہندو و مسلمان کے بیچ
باوجود ملکیت نہ ملک میں پایا
وہ تقدس کہ جو ہے حضرت انسان کے بیچ
پاسباں سے ترے کیا دور جو ہو ساز رقیب
ہے نہ اک طرح کی نسبت سگ و دربان کے بیچ
جیسی عزت مری دیواں میں امیروں کے ہوئی
ویسی ہی ان کی بھی ہو گی مرے دیوان کے بیچ
ساتھ ہے اس سر عریاں کے یہ وحشت کرنا
پگڑی الجھی ہے مری اب تو بیابان کے بیچ
وے پھری پلکیں اگر کھب گئیں جی میں تو وہیں
رخنے پڑ جائیں گے واعظ ترے ایمان کے بیچ
کیا کہوں خوبی خط دیکھ ہوئی بند آواز
سرمہ گویا کہ دیا ان نے مجھے پان کے بیچ
گھر میں آئینے کے کب تک تمھیں نازاں دیکھوں
کبھو تو آئو مرے دیدئہ حیران کے بیچ
میرزائی کا کب اے میر چلا عشق میں کام
کچھ تعب کھینچنے کو تاب تو ہو جان کے بیچ
میر تقی میر

کتنے اک اشک ہوئے جمع کہ طوفان ہوئے

دیوان اول غزل 506
جوش دل آئے بہم دیدئہ گریان ہوئے
کتنے اک اشک ہوئے جمع کہ طوفان ہوئے
کیا چھپیں شہر محبت میں ترے خانہ خراب
گھر کے گھر ان کے ہیں اس بستی میں ویران ہوئے
کس نے لی رخصت پرواز پس از مرگ نسیم
مشت پر باغ میں آتے ہی پریشان ہوئے
سبزہ و لالہ و گل ابر و ہوا ہے مے دے
ساقی ہم توبہ کے کرنے سے پشیمان ہوئے
دیکھتے پھرتے ہیں منھ سب کا سحر آئینے
جلوہ گر ہو کہ یہ تجھ بن بہت حیران ہوئے
دعوی خوش دہنی گرچہ اسے تھا لیکن
دیکھ کر منھ کو ترے گل کے تئیں کان ہوئے
جام خوں بن نہیں ملتا ہے ہمیں صبح کو آب
جب سے اس چرخ سیہ کاسہ کے مہمان ہوئے
اپنے جی ہی نے نہ چاہا کہ پئیں آب حیات
یوں تو ہم میر اسی چشمے پہ بے جان ہوئے
میر تقی میر

بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے

دیوان اول غزل 502
ہمیں غش آگیا تھا وہ بدن دیکھ
بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے
لیا دل اس مخطط رو نے میرا
اٹھالوں میں اسے قرآن پر سے
کہاں ہیں آدمی عالم میں پیدا
خدائی صدقے کی انسان پر سے
تفنگ اس کی چلی آواز پر لیک
گئی ہے میر گولی کان پر سے
میر تقی میر

آرزوے جہان ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 336
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
آرزوے جہان ہوتے ہیں
گوش دیوار تک تو جا نالے
اس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن
گھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا
روضے سب گلستان ہوتے ہیں
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض
خوبرو بدزبان ہوتے ہیں
غمزئہ چشم خوش قدان زمیں
فتنۂ آسمان ہوتے ہیں
کیا رہا ہے مشاعرے میں اب
لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
میر و مرزا رفیع و خواجہ میر
کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
میر تقی میر

یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں

دیوان اول غزل 300
نکلے ہے جنس حسن کسی کاروان میں
یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں
جاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھ
ہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں
یارب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہے
یک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں
ہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکے
تھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں
غم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیے
سویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں
غافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہے
ہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں
وے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاں
سوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں
دل نذر و دیدہ پیش کش اے باعث حیات
سچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں
کھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہم
ظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں
پھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میر
کیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں
میر تقی میر

بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ

دیوان اول غزل 191
فائدہ مصر میں یوسفؑ رہے زندان کے بیچ
بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ
تو نہ تھا مردن دشوار میں عاشق کے آہ
حسرتیں کتنی گرہ تھیں رمق اک جان کے بیچ
چشم بد دور کہ کچھ رنگ ہے اب گریہ پر
خون جھمکے ہے پڑا دیدئہ گریان کے بیچ
حال گلزار زمانہ کا ہے جیسے کہ شفق
رنگ کچھ اور ہی ہوجائے ہے اک آن کے بیچ
تاک کی چھائوں میں جوں مست پڑے سوتے ہوں
اینڈتی ہیں نگہیں سایۂ مژگان کے بیچ
جی لیا بوسۂ رخسار مخطط دے کر
عاقبت ان نے ہمیں زہر دیا پان کے بیچ
دعوی خوش دہنی اس سے اسی منھ پر گل
سر تو ٹک ڈال کے دیکھ اپنے گریبان کے بیچ
کرتے ململ کے پہن آتے تو ہو رندوں میں
شیخ صاحب نہ کہیں جفتے پڑیں شان کے بیچ
کان رکھ رکھ کے بہت درد دل میر کو تم
سنتے تو ہو پہ کہیں درد نہ ہو کان کے بیچ
میر تقی میر

ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا

دیوان اول غزل 111
خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا
ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا
سارے رئیس اعضا ہیں معرض تلف میں
یہ عشق بے محابا کس کو امان دے گا
پاے پر آبلہ سے میں گم شدہ گیا ہوں
ہر خار بادیے کا میرا نشان دے گا
داغ اور سینے میں کچھ بگڑی ہے عشق دیکھیں
دل کو جگر کو کس کو اب درمیان دے گا
نالہ ہمارا ہر شب گذرے ہے آسماں سے
فریاد پر ہماری کس دن تو کان دے گا
مت رغم سے ہمارے پیارے حنا لگائو
پابوس پر تمھارے سر سو جوان دے گا
ہوجو نشانہ اس کا اے بوالہوس سمجھ کر
تیروں کے مارے سارے سینے کو چھان دے گا
اس برہمن پسر کے قشقے پہ مرتے ہیں ہم
ٹک دے گا رو تو گویا جی ہم کو دان دے گا
گھر چشم کا ڈبو مت دل کے گئے پہ رو رو
کیا میر ہاتھ سے تو یہ بھی مکان دے گا
میر تقی میر

جگر مرغ جان سے نکلا

دیوان اول غزل 38
تیر جو اس کمان سے نکلا
جگر مرغ جان سے نکلا
نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی
میں ہی اک امتحان سے نکلا
گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمع
اب تو میری زبان سے نکلا
آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤں
بس تو نُہ آسمان سے نکلا
چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میں
نہ کبھو بحر و کان سے نکلا
مر گیا جو اسیر قید حیات
تنگناے جہان سے نکلا
دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقت
جو کوئی اس مکان سے نکلا
اس کی شیریں لبی کی حسرت میں
شہد پانی ہو شان سے نکلا
نامرادی کی رسم میر سے ہے
طور یہ اس جوان سے نکلا
میر تقی میر

باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 26
ایسے طلوع قطرہ خون کنج لب سے ہو
باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر
کیوں خود پہ رحم کھا کے کہیں اُنگلیوں سے تم
آسودگی کی گرہیں لگاتے ہو جان پر
اے شاہِ صوت! مژدۂ فردا نما سنا
خوش فہمیوں کی آیتیں نازل ہوں کان پر
ہر دم زمینِ عمر سے بے دخلیوں کا خوف
جیسے یہ کشتِ جبر ملی ہو لگان پر
کیا جانئے کہ علم کے کس مرحلے میں ہوں
کیوں جھوٹ کو فروغ دوں سچ کے گمان پر
آفتاب اقبال شمیم

یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 390
تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں
خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں
بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے
یہ جو سنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں
روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بد گمان کیسے ہیں
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں
کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں
کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں ، ساربان کیسے ہیں
چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے
خالی خالی برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں
دیکھتا تھا رم جھم سی بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں
اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے ہیں منصور
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں
منصور آفاق