ٹیگ کے محفوظات: کانوں

دلوائے بارود ہمیں بیگانوں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
فصل اُٹھے جو بھی اپنے کھلیانوں سے
دلوائے بارود ہمیں بیگانوں سے
سچ مچ کا سچ جس نے سرِ دربار کہا
تیر نہ کیا کیا اُس پر چلے کمانوں سے
ہم وُہ لوگ ہیں آج کے دور میں بھی جن کا
رشتہ ہے پتّھر کے گئے زمانوں سے
جھونپڑیوں سے اُٹھ کر آنے والوں کے
طَور بدلتے ہیں کب نئے مکانوں سے
آجر سوچے، دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا اِن کانوں سے
باغ پہ اِک وُہ رُت بھی آئی تھی جس میں
پنچھی تک چمٹے دیکھے کاشانوں سے
جائے گا کب حبس کا موسم یُوں ماجدؔ
جب تک آگ نہ پھُوٹے گی شریانوں سے
ماجد صدیقی

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

دیوان ششم غزل 1822
دل گئے آفت آئی جانوں پر
یہ فسانہ رہا زبانوں پر
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے
رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر
گرچہ انسان ہیں زمینی ولے
ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر
شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے
ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر
عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند
سیر رہتی ہے ان مکانوں پر
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع
بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر
لوگ سر دیتے جاتے ہیں کب سے
یار کے پاؤں کے نشانوں پر
کجی اوباش کی ہے وہ دربند
ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر
کوئی بولا نہ قتل میں میرے
مہر کی تھی مگر دہانوں پر
یاد میں اس کے ساق سیمیں کی
دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
تھے زمانے میں خرچی جن کی روپے
ٹھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر
غم و غصہ ہے حصے میں میرے
اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر
قصے دنیا میں میر بہت سنے
نہ رکھو گوش ان فسانوں پر
میر تقی میر

کیا کیا سینہ زنی رہتی ہے درد و غم کے فسانوں پر

دیوان پنجم غزل 1607
اپنے موئے بھی رنج و بلا ہے ہمسایوں کی جانوں پر
کیا کیا سینہ زنی رہتی ہے درد و غم کے فسانوں پر
میں تو کیا کیا حرف وسخن تھے میرے جہاں سے جاتے رہے
باتیں دردآگیں ہیں اب تک کیسی کیسی زبانوں پر
تو بھی رباط کہن سے صوفی سیر کو چل ٹک سبزے کی
ابرسیہ قبلے سے آ کر جھوم پڑا میخانوں پر
آمد و رفت نسیم سے ظاہر رنجش بلبل ہے لیکن
بائو بھی اب تک بہی نہیں گلہاے چمن کے کانوں پر
جیغہ جیغہ اس کی سی ابرو دلکش نکلی نہ کوئی یاں
زور کیے لوگوں نے اگرچہ نقش و نگار کمانوں پر
جان تو یاں ہے گرم رفتن لیت و لعل واں ویسی ہے
کیا کیا مجھ کو جنوں آتا ہے اس لڑکے کے بہانوں پر
بعد مرے سبحے کو میرے ہاتھوں ہاتھ ملک لیں گے
سو سو بار لیا ہے میں نے نام اس کا ان دانوں پر
دل کی حقیقت عرش کی عظمت سب کچھ ہے معلوم ہمیں
سیر رہی ہے اکثر اپنی ان پاکیزہ مکانوں پر
راہ چلو تم اپنی اپنی میرے طریق سے کیا تم کو
آنکھوں سے پردہ میں نے کیا ہے واں پائوں کے نشانوں پر
عشق عجائب زورآور ہے کشتی سب کی پاک ہوئی
ذکر میر ہے کیا پیری میں حرف و سخن ہے جوانوں پر
میر تقی میر

حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 5
دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا
حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
گھر ہے اللہ کا گھر بے سر و سامانوں کا
پاسبانوں کا یہاں کام نہ دربانوں کا
گور کسری و فریدوں پہ جو پہنچوں پوچھوں
تم یہاں سوتے ہو کیا حال ہے ایوانوں کا
کیا لکھیں یار کو نامہ کہ نقاہت سے یہاں
فاصلہ خانہ و کاغذ میں ہے میدانوں کا
دل یہ سمجھا جو ترے بالوں کا جوڑ دیکھا
ہے شکنجے میں یہ مجموعہ پریشانیوں کا
موجیں دریا میں جو اٹھتی ہوئی دیکھیں سمجھا
یہ بھی مجمع ہے تیرے چاک گریبانوں کا
تیر پہ تیر لگاتا ہے کماندار فلک
خانہ دل میں ہجوم آج ہے مہمانوں کا
بسملوں کی دم رخصت ہے مدارات ضرور
یار بیڑا تیری تلوار میں ہو پانو ں کا
میرے اعضا نے پھنسایا ہے مجھے عصیاں میں
شکوہ آنکھوں کا کرو یا میں گلہ کانوں کا
قدر داں چاہئے دیوان ہمارا ہے امیر
منتخب مصحفی و میر کے دیوانوں کا
امیر مینائی