ٹیگ کے محفوظات: کال

نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں خیال نہ تھا
نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا
لبوں میں جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستمگروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
کوئی نہیں تھا شکایت نہ تھی جسے ہم سے
ہمیں تھے ایک، کسی سے جنہیں ملال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
بہ کُنجِ عجز فقط گن ہی گن تھے پاس اپنے
یہاں کے اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وہ جنس تھی، جس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھا
نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا
لبوں پہ جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستم گروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گُرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
یہ ہم کہ پست ہیں، گُن تھے بھی گر تو پاس اپنے
یہاں کے، اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وُہ جنس تھی، جِس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 49
اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو
احمد فراز

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

پر مرے جی ہی کے خیال پڑا

دیوان اول غزل 81
خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا
شیخ قلاش ہے جوے میں نہ لائو
یاں ہمارا رہے ہے مال پڑا
خوبرو اب نہیں ہیں گندم گوں
میر ہندوستاں میں کال پڑا
میر تقی میر

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 23
پرت کے دن پئے یاد دلاون سَیتاں اوس ای سال دیاں
توڑ کے جدوں نکلے اسیں تنیاں دُکھ دے جال دیاں
پتھراں تھلے اُگیا گھاہ سی، اک اک ساہ وچ سینے دے
کی دسّئیے کنج تن تے جریاں رُتاں انت وبال دیاں
اک ذری بیڑی ڈولن تے اکھّیاں وچ پھر جان پّیاں
ذہناں دے وچ لتھیاں یاداں خورے کس جنجال دیاں
کنج ہوٹھاں تے پپڑیاں جمّیاں، کنج اکھیں دَبھ جم گئی سی
صدیاں تیکن پین گیاں ایہہ سَتھاں سُکھ دے کال دیاں
کدھرے تے ایہہ قدم اساڈے اُٹھن وَل اُس گُٹھ دے وی
من مِتھے جس اُچ نوں ساڈیاں ایہہ اکھیاں نیں بھالدیاں
آہنڈھ گواہنڈ چ ساڈا سر وی تد ائی اُچیاں رہنا ایں
کُھدراں وسوں کر کے دسّیئے جد باگاں دے نال دیاں
اَدھ کھِڑیاں کلیاں دے ہاسے، ماجدُ ہوٹھیں ورتن پئے
جیٔوں جیٔوں اندر جگدیاں تکئیے سدھراں ابھل بال دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)