ٹیگ کے محفوظات: کالوں

کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو

دیوان سوم غزل 1235
رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو
کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو
اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو
الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو
جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں
نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو
نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو
تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو
کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت
نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو
دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے
بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو
یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں
تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو
نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے
کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو
کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے
مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو
میر تقی میر

لوٹا مارا ہے حسن والوں کا

دیوان سوم غزل 1097
دل عجب شہر تھا خیالوں کا
لوٹا مارا ہے حسن والوں کا
جی کو جنجال دل کو ہے الجھائو
یار کے حلقہ حلقہ بالوں کا
موے دلبر سے مشک بو ہے نسیم
حال خوش اس کے خستہ حالوں کا
نہ کہا کچھ نہ آ پھرا نہ ملا
کیا جواب ان مرے سوالوں کا
دم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا
میر کاٹا جیے نہ کالوں کا
میر تقی میر