ٹیگ کے محفوظات: کافری

زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی

اے زمانے بتا، کیا ہوئی خودکشی
زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی؟
سُرخروئی کے درجے کو پہنچی ہوئی
ہائے! ہائے! مری آخری خودکشی
ایک بھی کام دل سے نہیں ہو سکا
زندگی، شاعری، کافری، خودکشی
بھوک نے چاٹ لی وقفۂ شور میں
برتنوں میں سجائی گئی خودکشی
چار بچّوں کی ماں کیا کرے گی، جسے
کم سِنی میں ملی کاغذی خودکشی
سارہؔ، ثروتؔ، شکیبؔ اور میرے لیے
لا کوئی مدھ بھری مذہبی خودکشی
عشق نے جو کیا حال، مت پوچھیے
کر گئے ہوش میں شیخ جی خودکشی
روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں
روز کرتا ہوں میں داخلی خودکشی
پیڑ، پودے فلکؔ چیخنے لگ گئے
سب پرندوں نے جب سوچ لی خودکشی
افتخار فلک

تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 615
مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادوگری پر ہے
تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے
ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے
تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانش وری پر ہے
سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے
صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آ کر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے
مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے
منصور آفاق

رو پڑے میری کافری اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 317
آسماں کی برابری اور میں
رو پڑے میری کافری اور میں
چار سو ہیں دعا کے گلدستے
بیچ میں آخری جری اور میں
لفظ کی بے بسی کی بستی میں
چشم و لب کی سخن وری اور میں
اپنی اپنی تلاش میں گم ہیں
عمر بھر کی مسافری اور میں
مر گئے اختتام سے پہلے
اک کہانی تھی متھ بھری اور میں
کچھ نہیں بانٹتے تناسب سے
میرا احساس برتری اور میں
ایک فیری کے خالی عرشے پر
رقص کرتی تھی جل پری اور میں
فہمِ منصور سے تو بالا ہے
یہ تری بندہ پروری اور میں
منصور آفاق

آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 105
تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا
آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا
میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمی
چاہتے تھے جو،وہی پیغمبری کرتا رہا
نیند آجائے کسی صورت مجھے، اس واسطے
میں ، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا
کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفس
میں بہشتِ دید کے ملزم بری کرتا رہا
جانتا تھا باغِ حیرت کے وہی ساتوں سوال
اک سفر تھا میں جسے بس ملتوی کرتا رہا
تھی ذرا سی روشنی سواحتیاطً بار بار
پوٹلی میں بند پھر میں پوٹلی کرتا رہا
سارادن اپنے کبوتر ہی اڑاکردل جلا
آسماں کا رنگ کچھ کچھ کاسنی کرتا رہا
دیدہ ء گرداب سے پہچان کر بحری جہاز
اک سمندرگفتگو کچھ ان کہی کرتا رہا
دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک
ریت کا ٹیلاہوا سے دوستی کرتا رہا
رات کی آغوش میں گرتے رہے ، بجھتے رہے
میں کئی روشن دنوں کی پیروی کرتا رہا
اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن
جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا
میں کہ پانچوں کا ملازم میں کہ چاروں کا غلام
حسبِ فرمانِ خدا ، وردِ نبیﷺ کرتا رہا
منصور آفاق