ٹیگ کے محفوظات: کاغذی

زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی

اے زمانے بتا، کیا ہوئی خودکشی
زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی؟
سُرخروئی کے درجے کو پہنچی ہوئی
ہائے! ہائے! مری آخری خودکشی
ایک بھی کام دل سے نہیں ہو سکا
زندگی، شاعری، کافری، خودکشی
بھوک نے چاٹ لی وقفۂ شور میں
برتنوں میں سجائی گئی خودکشی
چار بچّوں کی ماں کیا کرے گی، جسے
کم سِنی میں ملی کاغذی خودکشی
سارہؔ، ثروتؔ، شکیبؔ اور میرے لیے
لا کوئی مدھ بھری مذہبی خودکشی
عشق نے جو کیا حال، مت پوچھیے
کر گئے ہوش میں شیخ جی خودکشی
روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں
روز کرتا ہوں میں داخلی خودکشی
پیڑ، پودے فلکؔ چیخنے لگ گئے
سب پرندوں نے جب سوچ لی خودکشی
افتخار فلک

میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 368
یاد کے گلی میں دو اجنبی مسافر ہیں
میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں
گھر میں کمپیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں
چند ٹن بیئر کے ہیں چند چپس کے پیکٹ
رات کی سڑک ہے اور ہم یونہی مسافر ہیں
کون ریل کو سگنل لالٹین سے دے گا
گاؤں کے سٹیشن پر اک ہمی مسافر ہیں
نیند کے جزیرے پر، آنکھ کی عمارت میں
اجنبی سے لگتے ہیں ، یہ کوئی مسافر ہیں
شب پناہ گیروں کے ساتھ ساتھ رہتی ہے
روشنی کی بستی میں ہم ابھی مسافر ہیں
اور اک سمندر سا پھر عبور کرنا ہے
خار و خس کی کشتی ہے کاغذی مسافر ہیں
چند اور رہتے ہیں دھوپ کے قدم منصور
شام کی گلی کے ہم آخری مسافر ہیں
منصور آفاق