ٹیگ کے محفوظات: کاریگر

اور ہم مغرور مجنوں اپنے گھر بوڑھے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 512
دستکوں کی آس پر لکڑی کے در بوڑھے ہوئے
اور ہم مغرور مجنوں اپنے گھر بوڑھے ہوئے
یہ الگ ہے گھٹ گئی فصلِ ثمر باری مگر
بڑھ گئی کچھ اور چھاؤں جب شجر بوڑھے ہوئے
جس کی تزئین کے لیے اپنی جوانی صرف کی
دوست ہم اس شہر کے فٹ پاتھ پر بوڑھے ہوئے
صبح کی تجسیم کرنا غیر ممکن ہو گیا
رات کو جو کاٹتے تھے کاریگر بوڑھے ہوئے
مصلحت سازوں کی بستی برگزیدہ ہو گئی
گردنوں پر رکھے رکھے مردہ سر بوڑھے ہوئے
رو پڑی منصور دریا کے گلے لگ کر ہوا
جب کسی ساحل پہ مرغابی کے پر بوڑھے ہوئے
منصور آفاق