ٹیگ کے محفوظات: کاریز

یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 91
جو بے رخی کا رنگ بہُت تیز مجھ میں ہے
یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے
سیراب ‘ کُنجِ ذات کو رکھتی ہے مستقِل
بہتی ہوئی جو رنج کی کاریز مجھ میں ہے
کاسہ ہے ایک فکر سے مجھ میں بھرا ہُوا
اور اک پیالہ درد سے لب ریز مجھ میں ہے
یہ کربِ رائگانیء اِمکاں بھی ہے’ مگر
تیرا بھی اک خیالِ دل آویز مجھ میں ہے
تازہ کِھلے ہوئے ہیں یہ گل ہاے زخم رنگ
ہر آن ایک موسِمِ خوں ریز مجھ میں ہے
رکھتی ہے میری طبع رَواں ‘ بابِ حرف میں
یہ مستقِل جو درد کی مہمیز مجھ میں ہے
اب تک ہرا بھرا ہے کسی یاد کا شجر
عرفان ! ایک خطّہء زرخیز مجھ میں ہے
عرفان ستار

عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 644
گوش بر آواز، کم آمیز کے پیچھے رہے
عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے
ہاتھ چھونے کا کہاں موقع فراہم ہوسکا
اک طرف وہ اک طرف ہم میز کے پیچھے رہے
اونٹنی چلتی رہی تاروں سے رستہ پوچھ کر
رات بھر ہم صبح دل آویز کے پیچھے رہے
وہ سمندر سے لپٹ جاتی رہی ہر ایک بار
بس یونہی ہم موجِ تند و تیز کے پیچھے رہے
روح کی شب زندہ داری کی بہشتیں چھوڑ کر
جسم کی ہم وحشتِ شب خیز کے پیچھے رہے
چشمۂ دل سے نکل کر آنسوئوں کے ساتھ ہم
آنکھ کو آتی ہوئی کاریز کے پیچھے رہے
دوصدی پہلے مجھے کھینچا گیا تھا باندھ کر
پھر ہمیشہ یہ قدم انگریز کے پیچھے رہے
مسئلہ کشمیرکا منصور یہ ہے ، سب قزاق
زعفراں کی وادی ء زرخیر کے پیچھے رہے
منصور آفاق