ٹیگ کے محفوظات: ڈھہ

اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے

دیوان پنجم غزل 1752
چلتے ہوئے تسلی کو کچھ یار کہہ گئے
اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے
کیا کیا مکان شاہ نشیں تھے وزیر کے
وہ اٹھ گیا تو یہ بھی گرے بیٹھے ڈھہ گئے
اس کج روش سے ملنا خرابات میں نہ تھا
بے طور ہم بھی جاکے ملے بے جگہ گئے
وے زورور جواں جنھیں کہیے پہاڑ تھے
جب آئی موج حادثہ تنکے سے بہ گئے
وہ یار تو نہ تھا تہ دل سے کسو کا میر
ناچار اس کے جور و ستم ہم بھی سہ گئے
میر تقی میر

آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے

دیوان سوم غزل 1264
آنکھوں سے راہ عشق کی ہم جوں نگہ گئے
آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے
اس عرصے سے گیا ہو کہیں کوئی تو کہیں
چل پھر کے لوگ یاں کے یہیں سارے رہ گئے
کیا کیا ہوئے ہیں اہل زماں ڈھیر خاک کے
کیا کیا مکان دیکھتے ناگاہ ڈھہ گئے
ان دلبروں سے کیا کہیں مظلوم عشق ہم
ناچار ظلم و جور و ستم ان کے سہ گئے
تسبیحیں ٹوٹیں خرقے مصلے پھٹے جلے
کیا جانے خانقاہ میں کیا میر کہہ گئے
میر تقی میر

پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر

دیوان اول غزل 216
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر
وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا
رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر
کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے
ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر
ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں
آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر
رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے
یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر
برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر
طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے
گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر
کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا
دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر
میر تقی میر