ٹیگ کے محفوظات: ڈھونڈا

جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 65
چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں !
جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !
اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات
وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں !
بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا
اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں !
مجھ کو تکمیل سمجھنے والا
اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں !
گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے
دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں !
بند کمرے میں کبھی میری طرح
شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں !
میری خوداری برتنے والے!
تیر اپندار بھی ٹوٹا کہ نہیں !
الوداع ثبت ہُوئی تھی جس پر
اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں !
پروین شاکر

یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 185
کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر ، تاعمر
خود ترا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے
جون ایلیا