ٹیگ کے محفوظات: ڈھلتے

چراغ بن کے تری رہ گزر میں جلتے ہیں

جو اشکِ خوں مری پلکوں سے بہ نکلتے ہیں
چراغ بن کے تری رہ گزر میں جلتے ہیں
شبِ بہار میں مہتاب کے حَسیں سایے
اداس پآ کے مجھے، اور بھی مچلتے ہیں
اسیرِ دامِ جنوں ہوں، مجھے رہائی کہاں
یہ رنگ و بُو کے قفس میرے ساتھ چلتے ہیں
وہ شمعِ رُو کا شبستاں، یہ بزمِ ہجراں ہے
’’وہاں چراغ، یہاں دل کے داغ جلتے ہیں،،
پرائی آگ سے شاید گداز ہو جائیں
خود اپنی آگ سے کب سنگ دل پگھلتے ہیں
یہ دل، وہ کارگہِ مرگ و زیست ہے کہ جہاں
ستارے ڈوبتے ہیں، آفتاب ڈھلتے ہیں
شکیبؔ! حُسنِ سماعت ہے آپ کا ورنہ
دلِ شکستہ سے نغمے کہاں اُبلتے ہیں
شکیب جلالی

کسی کی یاد کے جُگنو دھواں اُگلتے ہیں

ہواے شب سے نہ بُجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں
کسی کی یاد کے جُگنو دھواں اُگلتے ہیں
شبِ بہار میں مہتاب کے حسیں سائے
اُداس پآ کے ہمیں ‘ اور بھی مچلتے ہیں
اسیرِ دامِ جنوں ہیں ‘ ہمیں رہائی کہاں
یہ رنگ و بُو کے قفس اپنے ساتھ چلتے ہیں
یہ دل وہ کار گہِ مرگ و زیست ہے کہ جہاں
ستارے ڈوبتے ہیں ‘ آفتاب ڈھلتے ہیں
خود اپنی آگ سے شاید گداز ہوجائیں
پرائی آگ سے کب سنگ دل پگھلتے ہیں
شکیب جلالی

مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 3
مریضِ محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انھیں خط میں لکھا تھا کے دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آنہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے
بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آگیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے
ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کہ ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک جائیں گے پاؤں چلتے چلتے
وہ مہمان میری ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے
قمر اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
قمر جلالوی

شکریہ مشورت کا چلتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 116
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
کیا تکلف کریں ‌یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
ہے اسے دور کا سفر درپیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
تم بنو رنگ، تم بنو خوش بو
ہم تو اپنے سخن میں ‌ ڈھلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
جون ایلیا

صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 412
جلتی ہوئی چتا سے نکلتے ہوئے بھی دیکھ
صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ
جس کو بلا کا زعم تھا اپنے مزاج پر
وہ آہنی چٹان پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
چھو کر کسی گلاب کو موجِ بدن کے رنگ
بہتی ہوئی ندی میں مچلتے ہوئے بھی دیکھ
اے بادِ تندِ یار تجھے اور کیا کہوں
بجھتے ہوئے چراغ کو جلتے ہوئے بھی دیکھ
پاگل سا ہو گیا تھا جسے دیکھ کر کبھی
اس چودھویں کے چاند کو ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ
مجھ کو گرا دیا تھا زمیں پر تو کیا ہوا
سطحِ زمیں سے گیند اچھلتے ہوئے بھی دیکھ
وہ بھی تو ایک پیڑ تھا اپنے نصیب کا
موسم کے ساتھ اس کو بدلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور پھر کھڑا ہے خود اپنے ہی پاؤں پر
جو گر گیا تھا اس کو سنبھلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور آفاق