ٹیگ کے محفوظات: ڈھلتی

کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 249
گرتی ہی چلی جائے سنبھلتی ہی چلی جائے
کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے
رُک جاؤں تو بن جائے ہر اک راستہ دیوار
نکلوں تو ہر اک راہ نکلتی ہی چلی جائے
بہتر یہی ہو گا کہ ہم آرام سے سو جائیں
اچھی شب وعدہ ہے کہ ڈھلتی ہی چلی جائے
کیا دار عمل ہے کہ جو جی چاہے سو کیجے
کیا خوب قیامت ہے کہ ٹلتی ہی چلی جائے
اک آگ ہے خوں میں کہ جو مدھم نہیں ہوتی
اک شمع ہے دل میں کہ پگھلتی ہی چلی جائے
میں ہوں کہ جو دھوکا نہیں کھاتا کسی صورت
دنیا ہے کہ یہ روپ بدلتی ہی چلی جائے
ہم تو خس و خاشاک سمجھتے تھے بدن کو
یہ کون سی مٹی ہے کہ جلتی ہی چلی جائے
عرفان صدیقی

نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 235
قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی
نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی
کچھ اَیسی تیز نہ تھی اُس کے اِنتظار کی آنچ
یہ زندگی ہی مری برف تھی پگھلتی رہی
سروں کے پھول سرِ نوکِ نیزہ ہنستے رہے
یہ فصل سوکھی ہوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی
ہتھیلیوں نے بچایا بہت چراغوں کو
مگر ہوا ہی عجب زاویے بدلتی رہی
دیارِ دِل میں کبھی صبح کا گجر نہ بجا
بس ایک دَرد کی شب ساری عمر ڈھلتی رہی
میں اَپنے وقت سے آگے نکل گیا ہوتا
مگر زمیں بھی مرے ساتھ ساتھ چلتی رہی
عرفان صدیقی