ٹیگ کے محفوظات: ڈھالی

آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ابرِ گریزاں سی بیگانہ، لیکن دیکھی بھالی سی
آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی
آنکھ نہ کُھل چکنے سے پہلے کیا کیا سُندر لگتی تھی
وُہ لڑکی انجانی سی، پھولوں کے رُوپ میں ڈھالی سی
کس کس بات میں کس کس پر ہم کھولیں اِس کی بیتابی
نقش ہو کس کس نامے پراپنی یہ آنکھ، سوالی سی
اوروں کو بھی مجُھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو
فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی
جانے کس کی سنگ دلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں مَیں
شام تلک کشکول بنی اِک بُڑھیا بھولی بھالی سی
ماجدؔ وہ نادر ہستی بھی اَب تو خواب خیال ہوئی
از خود جھُک جانے والی جنّت کے پیڑ کی ڈالی سی
ماجد صدیقی

کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی

دیوان ششم غزل 1903
جمع افگنی سے ان نے ترکش کیے ہیں خالی
کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی
درگیر کیونکے ہو گی اس سفلہ خو سے صحبت
دیوانگی یہ اتنی وہ اتنا لاابالی
بے اختیار شاید آہ اس سے کھنچ گئی ہو
جب صورت ایسی تیری نقاش نے نکالی
اتنی سڈول دیہی دیکھی نہ ہم سنی ہے
ترکیب اس کی گویا سانچے میں گئی ہے ڈھالی
وصل و فراق دونوں بے حالی ہی میں گذرے
اب تک مزاج کی میں پاتا نہیں بحالی
میں خاکسار ان تک پہنچی دعا نہ میری
وے ہفتم آسماں پر ان کا دماغ عالی
آنکھیں فلک کی لاکھوں تب جھپتیاں ہی دیکھیں
مانند برق خاطف تیغ ان نے جب نکالی
کل فتنہ زیر سر تھے جو لوگ کٹ گئے سب
پھر بھی زمین سر پر یاروں نے آج اٹھا لی
طفلی میں ٹیڑھی سیدھی ٹوپی کا ہوش کب تھا
پگڑی ہی پھیر رکھی ان نے جو سدھ سنبھالی
معقول اگر سمجھتے تو میر بھی نہ کرتے
لڑکوں سے عشق بازی ہنگام کہنہ سالی
میر تقی میر

کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے

دیوان اول غزل 584
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ
تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا
ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے
پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی
چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم
کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختررز آفت
کیا پیرمغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
خونریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں
کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی
جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
ان مغبچوں میں زاہد پھر سرزدہ مت آنا
مندیل تری اب کے ہم نے تو بچالی ہے
کیا میر تو روتا ہے پامالی دل ہی کو
ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
میر تقی میر