ٹیگ کے محفوظات: ڈولے

بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولے
بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے
نہ دیکھ اب، یہ باراں کن آنکھوں سے برسی
ملا ہے جو پانی تو سب داغ دھولے
کہیں وُہ، تقاضا یہی ہے وفا کا
بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے
سمجھ لے وہی راہبر و رہنما ہے
کسی چلنے والے کے بھی ساتھ ہولے
ترے نام کی نم ہے ماجدؔ بس اتنی
بڑھے پیاس تو اپنی پلکیں بھگولے
ماجد صدیقی

پون چلے اور ڈولے دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 80
جھونکوں میں رس گھولے دل
پون چلے اور ڈولے دل
جیون کی رُت کے سو روپ
نغمے، پھول، جھکولے، دل
تاروں کی جب جوت جگے
اپنے خزانے کھولے دل
یادوں کی جب پینگ چڑھے
بول البیلے بولے دل
کس کی دھن ہے باورے من؟
تیرا کون ہے؟ بھولے دل
مجید امجد

تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے
زمانے کا ہے کام تقلید کرنا
مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے
دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ
قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے
باقی صدیقی