ٹیگ کے محفوظات: ڈرنے

آنکھ میں اک نمی سی اُبھرنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 153
اب کے اُمید یُوں بھی نکھرنے لگی
آنکھ میں اک نمی سی اُبھرنے لگی
یہ اثر بھی ہے شاید مری آہ کا
آسماں سے بھی ہے آگ اُترنے لگی
خود تو اُجڑا مگر جس پہ تھا گھونسلا
شاخ تک وہ شجر پر بکھرنے لگی
نسلِ آدم ہوئی سنگ دل اور بھی
جب سے پاؤں سرِ ماہ دھرنے لگی
پیڑ کو جو سزا بھی ہوئی، ہو گئی
رُت کہاں اُس میں تخفیف کرنے لگی
کچھ دنوں سے ہے وہ سہم سا رُوح میں
سانپ سے جیسے چڑیا ہو ڈرنے لگی
یہ بھی دن ہیں کہ اَب اُس کے دیدار کی
بھوک بھی جیسے ماجدؔ ہے مرنے لگی
ماجد صدیقی

اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 40
سمجھوتہ کوئی وقت سے کرنے کا نہیں میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں
زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر
اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں
کل رات عجب دشتِ بلا پار کیا ہے
سو بادِ سحر سے تو سنورنے کا نہیں میں
کیوں مملکتِ عشق سے بے دخل کیا تھا
اب مسندِ غم سے تو اترنے کا نہیں میں
دم بھر کے لیے کوئی سماعت ہو میسّر
بے صوت و صدا جاں سے گزرنے کا نہیں میں
اب چشمِ تماشا کو جھپکنے نہیں دینا
اس بار جو ڈوبا تو ابھرنے کا نہیں میں
ہر شکل ہے مجھ میں مری صورت کے علاوہ
اب اس سے زیادہ تو نکھرنے کا نہیں میں
عرفان ستار