ٹیگ کے محفوظات: چینی

یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 95
تخیل اور ہے، نا دیدہ بینی اور ہوتی ہے
یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے
عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میں
مگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے
سیہ چشمی حسینوں کی تو ویسے بھی قیامت ہے
مگر پاسِ حیا کی سرمگینی اور ہوتی ہے
گریز اُس کا بجائے خود ادائے خاص ہے لیکن
خمارِ وصل کی ناز آفرینی اور ہوتی ہے
نہیں مشروط کارِ عاشقاں ترکِ سکونت سے
میاں، اہلِ جنوں کی نا مکینی اور ہوتی ہے
ہمیں اہلِ جہاں ویسے تو کب کیا کچھ نہیں کہتے
مگر احبابِ دل کی نکتہ چینی اور ہوتی ہے
عرفان ستار