ٹیگ کے محفوظات: چہکتے

ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 66
دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں
چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہے ہم
نہ تو بجھ پائیں نہ بھڑکیں نہ دہکتے جاویں
تیری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشاں ہمیں تکتے جاویں
کیا کرے چارہ کوئی جب تیرے اندوہ نصیب
منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور سسکتے جاویں
کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تیری محفل میں سبھی لوگ بہکتے جاویں
مژدۂ وصل سے کچھ ہم ہی زخود رفتہ نہیں
اس کی آنکھوں میں بھی جگنو سے چمکتے جاویں
کبھی اس یارِ سمن بر کے سخن بھی سنیو
ایسا لگتا ہے کہ غنچے سے چٹکتے جاویں
ہم نوا سنجِ محبت ہیں ہر اک رُت میں فراز
وہ قفس ہو کہ گلستاں ہو، چہکتے جاویں
احمد فراز