ٹیگ کے محفوظات: چھپایا

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا

دیوان دوم غزل 764
یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا
یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا
مدت میں وہ ہوا شب ہم بستر آ کے میرا
خوابیدہ طالعوں نے اک خواب سا دکھایا
الجھائو پڑ گیا سو سلجھی نہ اپنی اس کی
جھگڑے رہے بہت سے گذرے بہت قضایا
آئینہ رو ہمارا آیا نہ نزع میں بھی
وقت اخیر ان نے کیا خوب منھ چھپایا
اس بے مروتی کو کیا کہتے ہیں بتائو
ہم مارے بھی گئے پر وہ نعش پر نہ آیا
وہ روے خوب اب کے ہرگز گیا نہ دل سے
جب گل کھلا چمن میں تب داغ ہم نے کھایا
خلطہ ہمارا اس کا حیرت ہی کی جگہ ہے
ڈھونڈا جہاں ہم اس کو واں آپ کو ہی پایا
طرز نگہ سے اس کی بے ہوش کیا ہوں میں ہی
ان مست انکھڑیوں نے بہتیروں کو سلایا
آنکھیں کھلیں تو دیکھا جو کچھ نہ دیکھنا تھا
خواب عدم سے ہم کو کاہے کے تیں جگایا
باقی نہیں رہا کچھ گھٹتے ہی گھٹتے ہم میں
بیماری دلی نے چنگا بہت بنایا
تونے کہ پائوں دل سے باہر نہیں رکھا ہے
عیارپن یہ کن نے تیرے تئیں سکھایا
کس دن ملائمت کی اس بت نے میر ہم سے
سختی کھنچے نہ کیونکر پتھر سے دل لگایا
میر تقی میر

اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا

دیوان دوم غزل 723
سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا
اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا
جی دے کے لیتے ایسے معشوق بے بدل کو
یوسفؑ عزیز دلہا سستا بہت بکایا
زلف سیاہ اس کی جاتی نہیں نظر سے
اس چشم رو سیہ نے روز سیہ دکھایا
نام اس کا سن کے آنسو گر ہی پڑے پلک سے
دل کا لگائو یارو چھپتا نہیں چھپایا
تھا لطف زیست جن سے وے اب نہیں میسر
مدت ہوئی کہ ہم نے جینے سے ہاتھ اٹھایا
مہندی لگی تھی تیرے پائوں میں کیا پیارے
ہنگام خون عاشق سر پر جو تو نہ آیا
یہ پیروی کسو سے کاہے کو ہوسکے ہے
رکھتا ہے داغ ہم کو قامت کا اس کی سایا
دیکھی نہ پیش جاتے ہرگز خردوری میں
دانستہ بائولا ہم اپنے تئیں بنایا
رہتی تھی بے دماغی اک شور ما و من میں
آنکھوں کے مند گئے پر آرام سا تو پایا
گل پھول سے بھی تو جو لیتا ہے منھ کو پھیرے
مکھڑے سے کس کے تونے اے میر دل لگایا
میر تقی میر

یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دیوان دوم غزل 719
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا
دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو
اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا
عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ
زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا
گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی
اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا
جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ
اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا
اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش
عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا
دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں
اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا
دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں
ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا
کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی
کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا
میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا
ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا
میر تقی میر

یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا

دیوان اول غزل 106
اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا
یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا
وہ آئینہ رخسار دم بازپس آیا
جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا
کچھ ماہ میں اس میں نہ تفاوت ہوا ظاہر
سو بار نکالا اسے اور اس کو چھپایا
اک عمر مجھے خاک میں ملتے ہوئے گذری
کوچے میں ترے آن کے لوہو میں نہایا
سمجھا تو مجھے مرگ کے نزدیک پس از دیر
رحمت ہے مرے یار بہت دور سے آیا
یہ باغ رہا ہم سے ولے جا نہ سکے ہم
بے بال و پری نے بھی ہمیں خوب اڑایا
میں صید رمیدہ ہوں بیابان جنوں کا
رہتا ہے مرا موجب وحشت مرا سایا
یا قافلہ در قافلہ ان رستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا
رو میں نے رکھا ہے در ترسا بچگاں پر
رکھیو تو مری شرم بڑھاپے میں خدایا
ٹالا نہیں کچھ مجھ کو پتنگ آج اڑاتے
بہتوں کے تئیں بائو کا رخ ان نے بتایا
ایسے بت بے مہر سے ملتا ہے کوئی بھی
دل میر کو بھاری تھا جو پتھر سے لگایا
میر تقی میر

گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا

دیوان اول غزل 66
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تک
ایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا
کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراش
خط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا
کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہ
ایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا
دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھا
اس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا
میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچ
آپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
شہر دل آہ عجب جاے تھی پر اس کے گئے
ایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا
آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معاف
حرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا
میر تقی میر

ویلے مینوں، گُڈیاں والا ناچ نچایا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 4
اُچّے چاڑھ کے مینوں، امبروں دھرتی لاہیا
ویلے مینوں، گُڈیاں والا ناچ نچایا
تُوں وی تے نئیں، گوَلے، لفظ دعا میری دے
ہور کسے توں کرنی ایں، کی منگ خدایا
اوہدے کّسے حرف، نہ میری دِھیر بنھائی
جیئون کتاب دا جو ورقہ وی، مَیں پرتایا
اوہناں دا ایہہ عیب، سدا نئیں لُکیا رہنا
مینوں نِند کے، وڈیاں جیہڑا ننگ چھپایا
سِر وجیا اے فر تیشہ فرہاد دے ہتھوں
رُتّاں، بھُلیا وِسریا قصّہ، فر دہرایا
وَسّے وی تے، باگ میرے نوں، پھنڈ جاون گے
بدلاں ازلاں توں ایں، ایہو وَیر کمایا
دل چ دل دا دُکھ، ماجدُ کجیا تے ہے سی
ہوٹھاں اُتیّ، آ کے ہویا ہور سوایا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)