ٹیگ کے محفوظات: چھپانے

کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 134
برگ و گل نوچنے، اثمار گرانے آئے
کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے
کچھ بتانے سے اگر بادِصبا عاری ہے
بادِ صرصر ہی سماعت کو جلانے آئے
جس پہ جاں وارنے والا ہے زمانہ سارا
وُہ ہم ایسوں کے کہاں ناز اُٹھانے آئے
نام لکھتے تھے سرِ لوحِ شجر جب اُس کا
لوٹ کر پھر نہ وُہ نادان زمانے آئے
آس بھی دشت میں بس ٹُنڈ شجر ہی نکلی
اوٹ میں جس کی بدن ہم تھے چھپانے آئے
کیا کہوں اُن کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی
تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے
کر گئے اور ہرے زخم، قفس میں ماجدؔ!
جتنے جھونکے مرا اندوہ گھٹانے آئے
ماجد صدیقی

بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 112
سرخیاں کیا ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لئے
بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے
موجیں ساحل سے ہٹاتیں ہیں حبابوں کا ہجوم
وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے
سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری
تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے
چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے
دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے
ہنس کر کہتے ہو زمانہ بھر مجھی پہ جان دے
رہ گئے ہو کیا تمھیں سارے زمانے کے لئے
شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام
گیسوؤ کو کھل دو سورج چھپانے کے لئے
کائناتِ عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے
اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا
کیا قمر ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے
قمر جلالوی

فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 193
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلےگا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی
انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا
ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
لکد کوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتی
مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی
کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالب
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
مرزا اسد اللہ خان غالب

قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی

دیوان سوم غزل 1300
عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی
قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی
تگ ان پلکوں کو ہے ٹھوکر سے فتنے کے جگانے کی
طرح آتی ہے اس قد کو قیامت سر پہ لانے کی
کسو سے آنکھ کے ملتے ہی اپنی جان دے بیٹھے
نئی یہ رسم ہم جاتے ہیں چھوڑے دل لگانے کی
جہاں ہم آئے چہرے پر بکھیرے بال جا سوئے
ادا کرتے ہو تم کیا خوب ہم سے منھ چھپانے کی
مسیں بھیگی ہیں اس کے سبزئہ خط کی بدایت سے
مسیحؑ و خضرؑ کو پہنچی بشارت زہر کھانے کی
جہاں اس کے لیے غربال کر نومید ہو بیٹھے
یہی اجرت ملی ہے کیا ہماری خاک چھانے کی
کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا
رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی
بگولا کوئی اٹھتا ہے کہ آندھی کوئی آتی ہے
نشان یادگاری ہے ہماری خاک اڑانے کی
کرے ہے داغ اس کا عید کو سب سے گلے ملنا
اکت لی ہے نئی یہ میری چھاتی کے جلانے کی
لڑا کر آنکھیں اس اوباش سے اک پل میں مر گذرا
حکایت بوالعجب ہے میر جی کے مارے جانے کی
میر تقی میر