ٹیگ کے محفوظات: چھپانا

لُہو میں اِک تلاطم نِت اُٹھانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مچلنا، مُسکرانا، رُوٹھ جانا
لُہو میں اِک تلاطم نِت اُٹھانا
وُہی جس کی ہمیں پیہم لپک ہے
وُہی منظر نگاہوں سے چھپانا
ترستی ہے جسے اپنی سماعت
وُہی اک حرف ہونٹوں پر نہ لانا
تمہیں آتا ہے مرغِ آرزُو کے
پروں کو نوچ کر ہر سُو اڑانا
ٹھِٹھکنا قُرب سے فرمائشوں کی
سلیقے بُعد کے ہم کو سکھانا
جو کھنچنا تو رُتوں کو مات کرنا
قریب آنا تو رَگ رَگ میں سمانا
پتہ دیتا ہے ماجدؔ کو ترا ہی
یہ مرغانِ نفس کا چہچہانا
ماجد صدیقی

دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 62
طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل
ان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل
اس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل
صبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں
ماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل
خواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ
ڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل
آپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں
غیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل
شان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے
صبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل
تیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور
جلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل
روزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے
شیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل
مصطفٰی خان شیفتہ

یاں ہوا راز چھپانا موقوف

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 59
واں ہوا پردہ اٹھانا موقوف
یاں ہوا راز چھپانا موقوف
غیر کو رشک سے کیا آگ لگے
کہ ہوا میرا جلانا موقوف
ذکرِ شیریں کی اگر بندی ہے
کوہ کن کا بھی فسانہ موقوف!
اب کس امید پہ واں جائے کوئی
کہ ہوا غیر کا آنا موقوف
رمِ آہو سے وہ رم یاد آیا
دشت و صحرا میں بھی جانا موقوف
بد دماغ آج ہوا وہ گُل رُو
شیفتہ عطر لگانا موقوف
مصطفٰی خان شیفتہ

ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا

دیوان سوم غزل 1071
سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا
ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا
کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی
منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا
لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی
اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا
کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں
اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا
مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم
برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا
کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے
کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے
خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا
ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا
جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا
کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم
میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا
میر تقی میر

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

دیوان دوم غزل 955
دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی
اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی
پامالی عاشق کو منظور رکھے جانا
پھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی
برقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سے
کیا منھ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی
دیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھی
ظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی
صحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائش
ساتھ آن کے سونا بھی پھر منھ کو چھپانا بھی
میر تقی میر

آگ لینے مگر آئے تھے یہ آنا کیا تھا

دیوان دوم غزل 709
گرم مجھ سوختہ کے پاس سے جانا کیا تھا
آگ لینے مگر آئے تھے یہ آنا کیا تھا
برسوں یک بوسۂ لب مانگتے جاتے ہیں ہمیں
رات آتے ہی کہا تم نے جو مانا کیا تھا
دیکھنے آئے دم نزع لیے منھ پہ نقاب
آخری وقت مرے منھ کا چھپانا کیا تھا
جب نہ تب مرنے کو تیار رہے عشق میں ہم
جی کے تیں اپنے کبھو ہم نے نہ جانا کیا تھا
مدعی ہوتے ہیں اک آن میں اب تو دلدار
مہر جب رسم تھی یارب وہ زمانہ کیا تھا
عزت و عشق کہاں جمع ہوئے اے ہمدم
ننگ خواری تھا اگر دل کا لگانا کیا تھا
گر خط سبز سے اس کے نہ تمھیں تھی کچھ لاگ
پھر بھلا میر جی یہ زہر کا کھانا کیا تھا
میر تقی میر