ٹیگ کے محفوظات: چھپاتا

ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے

دیوان سوم غزل 1270
تیر جوڑے وہ ماہ آتا ہے
ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے
گل کو سر پر رکھیں سبھی لیکن
اب دماغ اپنا کب اٹھاتا ہے
اپنا اپنا ہے ذائقہ ہم کو
بوسۂ کنج لب ہی بھاتا ہے
آتش عشق جس کے دل کو لگے
شمع ساں آپ ہی کو کھاتا ہے
دیکھنا ہے تو ہے بہم پر وہ
ہم سے آنکھوں کو کب ملاتا ہے
میری تو ہے پلک سے چھوٹی نگاہ
اور وہ اس پہ منھ چھپاتا ہے
میر صناع ہے ملو اس سے
دیکھو تو باتیں کیا بناتا ہے
میر تقی میر

چلا ہے یار کے کوچے کو اور مجھ سے چھپاتا ہے

دیوان اول غزل 631
سبھوں کے خط لیے پوشیدہ قاصد آج جاتا ہے
چلا ہے یار کے کوچے کو اور مجھ سے چھپاتا ہے
تو خاطر جمع رکھ دامن کہ اب شہر گریباں سے
تری خاطر ہزاروں چاک تحفہ ہاتھ لاتا ہے
بتاں کے ہجر میں روتا ہوں شب کو اور سحر ہر دم
ہنسے ہے دور سے مجھ پر خدا یہ دن دکھاتا ہے
میر تقی میر