ٹیگ کے محفوظات: چھلک

بے سمت راستہ ہے‘ بھٹک جانا چاہیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 355
ہشیار ہیں تو ہم کو بہک جانا چاہیے
بے سمت راستہ ہے‘ بھٹک جانا چاہیے
دیکھو کہیں پیالے میں کوئی کمی نہ ہو
لبریز ہوچکا تو چھلک جانا چاہیے
حرفِ رجز سے یوں نہیں ہوتا کوئی کمال
باطن تک اس صدا کی دھمک جانا چاہیے
گرتا نہیں مصاف میں بسمل کسی طرح
اب دستِ نیزہ کار کو تھک جانا چاہیے
طے ہوچکے سب آبلہ پائی کے مرحلے
اب یہ زمیں گلابوں سے ڈھک جانا چاہیے
شاید پسِ غبار تماشا دکھائی دے
اس رہ گزر پہ دور تلک جانا چاہیے
عرفان صدیقی