ٹیگ کے محفوظات: چھانا

جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا

دیوان سوم غزل 1093
دل عجب چرچے کی جاگہ تھی سو ویرانہ ہوا
جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا
بزم عشرت پر جہاں کی گوش وا کر جاے چشم
آج یاں دیکھا گیا جو کچھ کل افسانہ ہوا
دیر میں جو میں گدایانہ گیا اودھر کہا
شاہ جی کہیے کدھر سے آپ کا آنا ہوا
کیا کہیں حسرت لیے جیسے جہاں سے کوئی جائے
یار کے کوچے سے اپنا اس طرح جانا ہوا
میر تیر ان جورکیشوں کے جو کھائے بے شمار
چھاتی اب چھلنی ہے میری ہے جگر چھانا ہوا
میر تقی میر

ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا

دیوان سوم غزل 1071
سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا
ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا
کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی
منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا
لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی
اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا
کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں
اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا
مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم
برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا
کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے
کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے
خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا
ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا
جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا
کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم
میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا
میر تقی میر

جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے

دیوان اول غزل 550
قبر عاشق پر مقرر روز آنا کیجیے
جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے
رات دارو پیجیے غیروں میں بے لیت و لعل
یاں سحر سر دکھنے کا ہم سے بہانہ کیجیے
ٹک تمھارے ہونٹ کے ہلنے سے یاں ہوتا ہے کام
اتنی اتنی بات جو ہووے تو مانا کیجیے
گوشۂ چشم بتاں یا کنج لب اس وقت میں
جا کہیں ہو تو دل اپنے کا ٹھکانا کیجیے
سیکھیے غیروں کے ہاں چھپ چھپ کے علم تیر پھر
سارے عالم میں ہمارے تیں نشانہ کیجیے
رفتہ رفتہ قاصدوں کو رفتگی اس سے ہوئی
جی میں ہے اب کے مقرر اپنا جانا کیجیے
نکلے ہے آنکھوں سے تو گرد کدورت جاے اشک
تا کجا تیری گلی میں خاک چھانا کیجیے
آبشار آنے لگے آنسو کے پلکوں سے تو میر
کب تلک یہ آب چادر منھ پہ تانا کیجیے
میر تقی میر