ٹیگ کے محفوظات: چھالے

یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیا
یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا
رسیاں اُن کے لئے جیسے فلک بھیجے گا
ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا
کب کوئی سانپ دبا لے، کوئی شاہیں آلے
چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا
جانے والے، ہیں بس اتنے سا پتہ چھوڑ گئے
دیکھ لے بند کواڑوں پہ ہیں جالے کیا کیا
چاہتیں وقفِ غرض، نیّتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
کب سے شہباز ہیں جو، محو اسی فکر میں ہیں
چیونٹیوں نے بھی یہاں، پَر ہیں نکالے کیا کیا
سَر اُٹھانے کی ہوئی جب بھی جسارت ہم سے
ہم پہ ماجدؔ نہ تنے طیش کے بھالے کیا کیا
ماجد صدیقی

اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے

دیوان اول غزل 499
اس اسیری کے نہ کوئی اے صبا پالے پڑے
اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے
حسن کو بھی عشق نے آخر کیا حلقہ بگوش
رفتہ رفتہ دلبروں کے کان میں بالے پڑے
مت نگاہ مست کو تکلیف کر ساقی زیاد
ہر طرف تو ہیں گلی کوچوں میں متوالے پڑے
کیونکے طے ہو دشت شوق آخر کو مانند سر شک
میرے پائوں میں تو پہلے ہی قدم چھالے پڑے
جوش مارا اشک خونیں نے مرے دل سے زبس
گھر میں ہمسایوں کے شب لوہو کے پرنالے پڑے
ہیں بعینہ ویسے جوں پردہ کرے ہے عنکبوت
روتے روتے بسکہ میری آنکھوں میں جالے پڑے
گرمجوشی سے مرے گریے کی شب آنکھوں کی راہ
گوشۂ دامن میں میر آتش کے پرکالے پڑے
میر تقی میر

دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 641
موجوں کو اٹھتی بھاپ کے لالے پڑے رہے
دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے
منہ کو کلیجہ آئے جب آئے کسی کی یاد
کیا کیا حسیں چڑیلوں سے پالے پڑے رہے
پھر چاند نے بھی چھوڑ دیا رات کادیار
جب بستروں میں دیکھنے والے پڑے رہے
چیزیں تو جھاڑتا رہا جاروب کش مگر
ذہنوں پہ عنکبوت کے جالے پڑے رہے
تاریخ جھوٹ کا ہی اثاثہ بنی رہی
تحقیق کے مکانوں پہ تالے پڑے رہے
حلقے پڑے رہے مری آنکھوں کے ارد گرد
مہتاب کے نواح میں ہالے پڑے رہے
تسخیرِاسم ذات مکمل ہوئی مگر
منصوراپنے کان میں بالے پڑے رہے
منصور آفاق

اسّاں جیہڑے حرف ٹِنانے واواں وچ اُچھالے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 72
کالیاں راتاں دی شاہی دامان تروڑن والے نیں
اسّاں جیہڑے حرف ٹِنانے واواں وچ اُچھالے نیں
اندر جھُلدی نھیری ہتّھوں اکھّیں لالی پھر گئی اے
تن دے بھخدے موسم پاروں جِبھیں اُبھرے چھالے نیں
ہِکّن اوہ نیں پل پل پیندی ٹھنڈ کلیجے جنہاں دے
ہِکّن اوہ جنہاں دی ہوٹھیں سدھراں بھانبڑ بالے نیں
سپ چڑیاں تے چھاپے مارن شِکرے جھپٹن گُھگیاں تے
خورے کی کی چِیک چہاڑے میرے آل دوالے نیں
رُتّاں نے نم روک کے اپنی اِنج دا زور وِکھایا اے
آپوں آپ ائی وجن لگ پئے کلیاں دے منہ تالے نیں
اکّھ نہ میلی ہوون دِتّی، نانہہ متھڑے وٹ پایا اے
کُجھ انج دے وی دُکھڑے اسّاں ایس تن اُتّے جالے نیں
ماجدُ اپنے نال دیاں نوں مار نہ پُھوکاں پیار دیاں
اوہناں دے مُکھ لو نئیں دیندے جیہڑے من دے کالے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)