ٹیگ کے محفوظات: چھالوں

کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
لمحے بوجھل قدموں، ٹھٹھرے سالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے
مچھلیوں جیسی سادہ منش امیدیں اپنی
عیّاروں کے ہتھکنڈے ہیں جالوں جیسے
دھُند سے کیونکر نکلے پار مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں نقالوں جیسے
اپنے یہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجد چھالوں جیسے
ماجد صدیقی

کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
لمحے بوجھل قدموں، ٹھٹھرے سالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے
مچھلیوں جیسی سادہ منش امیدیں اپنی
عیّاروں کے ہتھکنڈے ہیں جالوں جیسے
دھُند سے کیونکر نکلے پار مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں نقالوں جیسے
اپنے یہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجد چھالوں جیسے
ماجد صدیقی

ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 153
تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے
دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے
ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں رہے
بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
سوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے
ایک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئی
یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے
احمد فراز

وحشت کرنا شیوہ ہے کیا اچھی آنکھوں والوں کا

دیوان پنجم غزل 1537
دور بہت بھاگو ہو ہم سے سیکھے طریق غزالوں کا
وحشت کرنا شیوہ ہے کیا اچھی آنکھوں والوں کا
صورت گر کی پریشانی نے طول نہایت کھینچا ہے
ہم نے کیوں بستار کیا تھا اس کے لمبے بالوں کا
بہت کیا تو پتھر میں سوراخ کیے ہیں در فشوں نے
چھید جگر میں کر دینا یہ کام ہے محزوں نالوں کا
سرو لب جو لالہ و گل نسرین و سمن ہیں شگوفہ ہے
دیکھو جدھر اک باغ لگا ہے اپنے رنگیں خیالوں کا
غنچہ ہوا ہے خار بیاباں بعد زیارت کرنے کے
پانی تبرک کرتے ہیں سب پائوں کے میرے چھالوں کا
پہلے تدارک کچھ ہوتا تو نفع بھی ہوتا سو تو میر
کام ہے آخر عشق میں اس کے بیماروں بدحالوں کا
میر تقی میر

کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو

دیوان سوم غزل 1235
رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو
کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو
اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو
الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو
جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں
نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو
نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو
تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو
کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت
نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو
دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے
بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو
یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں
تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو
نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے
کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو
کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے
مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو
میر تقی میر