ٹیگ کے محفوظات: چھائی

نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 133
انھیں پردے کی اب سوجھی ہے اب صورت چھپائی ہے
نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے
وہ یکتا حسن میں ہو کر کہیں آگے نہ بڑھ جائیں
خدا بننے میں کیا ہے جب کہ قبضہ میں خدائی ہے
خبر بھی ہے زمانہ اب سلامت رہ نہیں سکتا
جوانی تجھ پہ او ظالم قیامت بن کے آئی ہے
یہی دن تھے یہی عالم تھا بجلی ٹوٹ پڑنے کا
چمن کی خیر ہو یا رب ہنسی پھولوں کو آئی ہے
ہمارا آشیاں دیکھو بلندیِ فلک دیکھو
کہاں سے چار تنکے پھونکنے کو برق آئی ہے
یہاں تک پڑ چکے ہیں وقت مایوسِ تمنا پر
تری تصویر کو رودادِ شامِ غم سنائی ہے
اڑا لے ہم غریبوں کا مذاق آخر کو زر والے
ترے رونے پہ اے شبنم ہنسی پھولوں کو آئی ہے
تم اپنا حسن دیکھو اپنی فطرت پہ نظر ڈالو
گریباں دیکھ کر کہتے ہو کیا صورت بنائی ہے
قمر ان کو تو مستحکم ہے وعدہ شب کو آنے کا
نہ جانے کیوں اداسی شام سے تاروں پہ چھائی ہے
قمر جلالوی

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 14
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
الطاف حسین حالی