ٹیگ کے محفوظات: چکر

کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب

دیوان ششم غزل 1811
منھ دھوتے اس کے آتا تو ہے اکثر آفتاب
کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب
سر صدقے تیرے ہونے کی خاطر بہت ہے گرم
مارا کرے ہے شام و سحر چکر آفتاب
ہر خانہ کیوں نہ صبح جہاں میں ہو پر فروغ
پھرتا ہے جھانکتا اسی کو گھر گھر آفتاب
تجرید کا فراغ ہے یک دولت عظیم
بھاگے ہے اپنے سائے سے بھی خوشتر آفتاب
نازک مزاج ہے تو کہیں گھر سے مت نکل
ہوتا ہے دوپہر کے تئیں سر پر آفتاب
پیدا ہے روز مشرق نو کی نمود سی
آئے ہے کوے یار سے بچ بچ کر آفتاب
ہو پست اس کے نور کا زیر زمیں گیا
ہر چند سب ستاروں سے تھا برتر آفتاب
اس رخ کی روشنی میں نہ معلوم کچھ ہوا
مہ گم کدھر ہوا ہے گیا کیدھر آفتاب
کس زورکش کی قوس قزح ہے کمان پاک
جس کی اٹھا سکا نہ کبھو سیسر آفتاب
روشن ہے یہ کہ خوف ہے اس غصہ ور کا میر
نکلے ہے صبح کانپتا جو تھرتھر آفتاب
میر تقی میر

اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج

دیوان چہارم غزل 1369
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج
اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج
عشق کے جو سرگشتہ ہوئے ہم رفتہ رفتہ دوار ہوا
پائوں میں چکر ہوتا ہے یاں سر کو بھی ہے چکر آج
عرش پہ دھونی لگانے کو تھے دود دل سے کب تک ہم
خاک پہ یاں کی درویشانہ ہم نے بچھایا بستر آج
جینے سے ہم غم کشتوں کے خاطر تم بھی جمع کرو
کل تک کام نہیں کھینچے گا غش آتا ہے اکثر آج
ملکوں ملکوں شہروں شہروں قریہ و قصبہ دیہ، و دیار
شعر وبیت و غزل پر اپنی ہنگامہ ہے گھر گھر آج
خط سے آگے مہر و وفا کا دعویٰ سب کچھ صادق تھا
جامۂ مصحف گو پہنے وہ کون کرے ہے باور آج
دیدہ و دل بھی اس کی جانب میل کلی رکھتے ہیں
عشق میں ہم بے کس ہیں واقع یار نہیں بے یاور آج
عشق کیا ہو ہم نے کہیں تو عشق ہمارا جی مارے
یوں ہی نکورو دلبر اپنا ہم سے ہوا ہے بدبر آج
رحم کی جاگہ کی ہے پیدا شاید اس کے دل میں بھی
دیکھ رہا ہے منھ کو ہمارے حال ہمارا سن کر آج
کل کہتے ہیں قیامت ہو گی کل کی کل ہی لیں گے دیکھ
یاں تو قیامت عشق میں اس کے ہے گی اپنے سر پر آج
کرتی ہے بووہ زلف معنبر آئے ہو بے خود سے کچھ
بارے مزاج شریف تمھارا میر گیا ہے کیدھر آج
میر تقی میر

سختیاں جو میں بہت کھینچیں سو دل پتھر ہوا

دیوان دوم غزل 752
پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا
سختیاں جو میں بہت کھینچیں سو دل پتھر ہوا
گاڑ کر مٹی میں روے عجز کیا ہم ہی موئے
خون اس کے رہگذر کی خاک پر اکثر ہوا
اب اٹھا جاتا نہیں مجھ پاس پھر ٹک بیٹھ کر
گرد اس کے جو پھرا سر کو مرے چکر ہوا
کب کھبا جاتا تھا یوں آنکھوں میں جیسا صبح تھا
پھول خوش رنگ اور اس کے فرش پر بچھ کر ہوا
کیا سنی تم نے نہیں بدحالی فرہاد و قیس
کون سا بیمار دل کا آج تک بہتر ہوا
کون کرتا ہے طرف مجھ عاشق بیتاب کی
صورت خوش جن نے دیکھی اس کی سو اودھر ہوا
جل گیا یاقوت اس کے لعل لب جب ہل گئے
گوہر خوش آب انداز سخن سے تر ہوا
کیا کہوں اب کے جنوں میں گھر کا بھی رہنا گیا
کام جو مجھ سے ہوا سو عقل سے باہر ہوا
شب نہ کرتا شور اس کوچے میں گر میں جانتا
اس کی بے خوابی سے ہنگامہ مرے سر پر ہوا
ہووے یارب ان سیہ رو آنکھوں کا خانہ خراب
یک نظر کرتے ہی میرے دل میں اس کا گھر ہوا
استخواں سب پوست سے سینے کے آتے ہیں نظر
عشق میں ان نوخطوں کے میر میں مسطر ہوا
میر تقی میر

دکھائی دے رہے ہیں پھر نئے منظر محبت کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 576
کسی گل پوش بنگلے میں کھلے ہیں در محبت کے
دکھائی دے رہے ہیں پھر نئے منظر محبت کے
انگیٹھی پر سجا رکھا ہے جن کو اُس گلی کے ہیں
کئے ہیں جمع برسوں میں یہی پتھر محبت کے
سدا رختِ سفر کی ہے گراں باری پہاڑوں پر
گلے میں طوق غم کے پاؤں میں چکر محبت کے
ابھی کچھ دیر دیکھوں گا ابھی کچھ دیر سوچوں گا
مسائل ہیں کئی مجھ کو ، کئی ہیں ڈر محبت کے
مجھے منصور پہلا تجربہ ہے تبصرہ کیا ہو
کئی حیرت بھرے موسم ملے اندر محبت کے
منصور آفاق

تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 1
پرسش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا
تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
تم لاکھ قسم کھاتے ہو ملنے کی عدو سے
ایمان سے کہو دوں مجھے بارو نہیں آتا
ڈرتا ہے کہیں آپ نہ پڑ جائے بلا میں
کوچے میں ترے فتنہ محشر نہیں آتا
جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی دیکھ لے ظالم
پھر دیکھوں کے رونا تجھے کیونکر نہیں آتا
کہتے ہیں یہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمھارے
سینے سے ٹرپ کر کبھی باہر نہیں آتا
دشمن کو کبھی ہوتی ہے دل پہ مرے رقت
پر دل یہ ترا ہے کہ کبھی بھر نہیں آتا
کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہیں تیور
کب یہ بیٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہیں آتا
غربت کدۂ دہر میں صدمے سے ہیں صدمے
اس پر بھی کبھی یاد ہمیں گہر نہیں آتا
ہم جس کی ہوس میں ہیں امیر آپ سے باہر
وہ پردہ نشین گھر سے باہر نہیں آتا
امیر مینائی