ٹیگ کے محفوظات: چڑھے

پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 586
گئی رتوں کے جو ہمسفر تھے چراغ لے کر کھڑے ہوئے تھے
پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے
اداس کتنا وہی مکاں تھاخود آپ گزروں کی داستاں تھا
بڑے بڑوں کی کہانیاں ہم جہاں پہ سن کر بڑے ہوئے تھے
جہاں جہاں سے گزر رہا تھا خزاں کی باچھیں کھلی ہوئی تھی
مرے نظر کے شجر برہنہ تھے مردہ پتے جھڑے ہوئے تھے
یہ کیسے ممکن تھا ساتھ چلتے ،یہ کیسے ممکن رات ڈھلتی
انہیں چراغوں سے بیر ساتھامجھے اندھیرے لڑے ہوئے تھے
جو عمر میں نے بسر نہیں کی، سنائی دیتی تھی ہر گلی سے
کئی فسانے بنے ہوئے تھے ہزار قصے گھڑے ہوئے تھے
وہیں پہ راتوں پچھلے پہروں خدا سے ہوتی تھی گفتگو بھی
وہ ایک کمرہ کہ جس کی چھت پرتنے شجر کے چڑھے ہوئے تھے
منصور آفاق