ٹیگ کے محفوظات: چپو

لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ حسن پاس مرے یوں پئے نمو آئے
لپک کے موج کناروں کو جیسے چھُو آئے
درِ سکون پہ جوں قرض خواہ کی دستک
کبھی جو آئے تو یوں دل میں آرزو آئے
نہیں ضرور کہ الفاظ دل کا ساتھ بھی دیں
یہ ذائقہ تو سخن میں کبھو کبھو آئے
نہیں ہے اہل ترے، میری خانہ ویرانی
خدا کرے مرے گھرمیں کبھی نہ تو آئے
بھنور میں جیسے ہم آئے مثالِ خس ماجدؔ
کوئی نہ یوں کسی آفت کے روبرُو آئے
ماجد صدیقی

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے

دیوان دوم غزل 997
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پائوں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میر سمجھا ہے یاں کم کسو نے
میر تقی میر

سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 103
نہ اکھیں اوہ لہر جیہی، نہ ہوٹھیں خُوشبو
سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو
مل گئی نال مزاج دے، زہر وی نِبھدی نال
دُکھ مترہن ساڈڑے، نھیریاں کر دے لو
مہکی سی دو چار دن دِلاّ! سانجھ رویل
ٹر گئے ساتھی نال دے، کلھیاں بہہ کے رو
پہلاں تے اِک گل سی، وچھڑاں گئے یا نئیں
ٹردے ہوئے نوں آکھیا، پل تے کول کھلو
سجنوں چپ دا اوڑھنا، کرئیے لیرو لیر
ہسئے اتھرو روک کے، اکھیاں لئیے دھو
کڈھ کدائیں ماجداُ، چرخہ ست پُران
پونی وِسرے پیار دی نویں سونی چھو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 29
توں جو کجھ کرنی سی، نال اساڈے گئی اے ہو
نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو
نمبو اِک تے لُسکن آلا، بھُسیاں دا اِک شہر
درد ونڈان آلے توں ایتھے، راضی رہوے نہ کو
جِندے نی، ونگاں دے ساز تے، دُکھ دی رات دَھما
وچ بھنڈار دے بیٹھی ایں تے، لمّی پونی چھو
ایس پتھراں دے شہر چ، تیرے گوشے، سُنسی کون
سر تے رکھ کے بانہہ نوں بیبا، اُچّی رو
زہر وی اِنہیں ہوٹھیں چکھنا، اِنج ائی امرت وی
موتوں پہلے کاہنوں مرنا، جو ہونی سو ہو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)