ٹیگ کے محفوظات: چٹان

ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
رُخ موڑ دے گا تُند ہوا سے اُڑان کا
ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا
کچھ اس طرح تھی ہجر کے موسم کی ہر گھڑی
جیسے بہ سطحِ آب تصوّر، چٹان کا
موسم کے نام کینچلی اپنی اُتار کر
صدقہ دیا ہے سانپ نے کیا جسم و جان کا
کس درجہ پر سکون تھی وہ فاختہ جسے
گھیرے میں لے چکا تھا تناؤ کمان کا
کس خوش دَہن کا نام لیا اِس نے بعدِعمر
ٹھہرا ہے اور ذائقہ ماجد زبان کا
ماجد صدیقی

کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی

جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
گُماں بہار پہ دیپک کی تان جیسا تھا
جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا
وُہ دن بھی تھے کہ نظر سے نظر کے ملنے پر
کسی کا سامنا جب امتحان جیسا تھا
یہ کیا ہُوا کہ سہارے تلاش کرتا ہے
وُہ پیڑ بھی کہ چمن میں چٹان جیسا تھا
کسی پہ کھولتے کیا حالِ آرزو، جس کا
کمال بِکھرے پروں کی اُڑان جیسا تھا
تنی تھی گرچہ سرِ ناؤ سائباں جیسی
سلوک موج کا لیکن کمان جیسا تھا
کہاں گیا ہے وُہ سرچشمۂ دُعا اپنا
کہ خاک پر تھا مگر آسمان جیسا تھا
نظر میں تھا ہُنرِ ناخُدا، جبھی ماجدؔ
یقین جو بھی تھا دل کو گمان جیسا تھا
ماجد صدیقی

بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
مجھ پر بنے گی گر نہ بنی اُس کی جان پر
بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر
حیراں ہوں کس ہوا کا دباؤ لبوں پہ ہے
کیسی گرہ یہ آ کے پڑی ہے زبان پر
کیا سوچ کر اُکھڑ سا گیا ہوں زمیں سے میں
اُڑتی پتنگ ہی تو گری ہے مکان پر
اُس سے کسے چمن میں توقع امان کی
رہتا ہے جس کا ہاتھ ہمیشہ کمان پر
شامل صدا میں وار کے پڑتے ہی جو ہُوا
چھینٹے اُسی لہو کے گئے آسمان پر
پنجوں میں اپنے چیختی چڑیا لئے عقاب
بیٹھا ہے کس سکون سے دیکھو چٹان پر
کیونکر لگا وہ مارِ سیہ معتبر مجھے
ماجدؔ خطا یہ مجھ سے ہوئی کس گمان پر
ماجد صدیقی

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 26
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 196
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے
ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے
میرے کتنے ہی نام اور ہم نام
میرے اور میرے درمیان میں تھے
میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے
تھے عجب دھیان کے در و دیوار
گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے
واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
سب قصیدے ہماری شان میں تھے
آسمانوں میں گر پڑے یعنی
ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے
جون ایلیا

اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 34
اُس نے ہم کو گمان میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا
کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اُس کی اٹھان میں رکھا
جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوپ، ایک چٹان میں رکھا
لمحے لمحے کی اپنی تھی اک شان
تو نہ ہی ایک شان میں رکھا
ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اُس کو ایک امتحان میں رکھا
تم تو اُس یاد کی امان میں ہو
اُس کو کس کی امان میں رکھا
اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا
جون ایلیا

بحر بھی، بادبان بھی، ہم بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 230
خوف بھی، امتحان بھی، ہم بھی
بحر بھی، بادبان بھی، ہم بھی
آتے جاتے ہزارہا سیلاب!
ساحلوں پر مکان بھی، ہم بھی
ایک ہی دھوپ کی حفاظت میں
دشت بھی، سائبان بھی، ہم بھی
ہر جگہ ایک دوسرے کے حریف
بیکراں آسمان بھی، ہم بھی
آخرِ کار معرکہ فیصل
ریزہ ریزہ چٹان بھی، ہم بھی
سب کسی انتظار میں زندہ
رات بھی، داستان بھی، ہم بھی
عرفان صدیقی