ٹیگ کے محفوظات: چو

سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 35
کاش اک ایسی شب آئے جب تُو ہو پہلو میں
سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں
یاد کی لَو سے آئینے کا چہرہ ہو پُرنور
نہا رہی ہو رات کی رانی خواب کی خوشبو میں
نیند مری لے کر چلتی ہے شام ڈھلے، اور پھر
رات الجھ کر رہ جاتی ہے اُس کے گیسو میں
رہے ہمارے ہونٹوں پر اک نام کا دن بھر ورد
شب بھر دل کی رحل پہ رکھا اک چہرہ چومیں
آپ اپنی ہی ضَو سے جگمگ کرنا ساری رات
دھڑک رہا ہو جیسے میرا دل اِس جگنو میں
بولتے رہنا ہنستے رہنا بے مقصد بے بات
جیسے دل آہی جائے گا میرے قابو میں
ویسے تو اکثر ہوتا تھا ہلکا، میٹھا درد
اب تو جیسے آگ بھری ہو یاد کے چاقو میں
ایک دعا تھی جس نے بخشی حرف کو یہ تاثیر
یہ تاثیر کہاں ہوتی ہے جادو وادو میں
جب مجھ کو بھی آجائے گا چلنا وقت کے ساتھ
آجائے گی کچھ تبدیلی میری بھی خُو میں
تم کیا سمجھو تم کیا جانو کون ہوں میں کیا ہوں
وہ اقلیم الگ ہے جس میں ہیں میری دھومیں
قحطِ سماعت کے عالم میں یہی ہے اک تدبیر
خود ہی شعر کہیں اور خود ہی پڑھ پڑھ کر جھومیں
لوگ ہمیں سمجھیں تو سمجھیں بے حرف و بے صوت
ہم شامل تو ہو نہیں سکتے ہیں اِس ہا ہُو میں
جن کے گھر ہوتے ہیں وہ گھر جاتے ہیں عرفان
آپ بھی شب بھر مت ایسے ان سڑکوں پر گھومیں
عرفان ستار

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

دیوان اول غزل 92
ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا
روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت
اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پرشور سر نہ پٹکا
اس کی گلی میں جاکر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں
کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کرلوں
تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی
پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے
مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں
دینا نہ تھا دل اس کو میں میر آہ چوکا
میر تقی میر

ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
جو ہو بھی جائے فرو زندگی کی محرومی
ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی
کرے اندھیرا دل و ذہن میں پھر اس کے بعد
جگائے شعر کی لو زندگی کی محرومی
نہیں قبول شرائط پہ رزق و جنس ہمیں
بہت شدید ہے گو زندگی کی محرومی
گراں ہے ایک نہ ہو ناتمام ہونے پر
دل فقیر کی ضو زندگی کی محرومی
پھر اس کے بعد رہے گا نہ شوق پینے کا
شراب میں نہ ڈبو زندگی کی محرومی
لٹے نہ سلطنتِ غم ذرا خیال رہے
سہو ہمیشہ سہو زندگی کی محرومی
آفتاب اقبال شمیم