ٹیگ کے محفوظات: چونکا

اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے

ترس گئی مری بینائی کچھ اجالا دے
اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے
شبِ سیاہ مجھے انتظارِ صبح نہیں
جو ہو سکے تو مرا چاند مجھ کو لوٹا دے
جو درد حاصلِ ہستی تھا وہ تو چھین لیا
اب اُس کے بدلے میں تو چاہے ساری دنیا دے
بلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو
ردائے تیرگی ہٹ سامنے سے رستا دے
کیا ہے تلخی دوراں نے اِس قدر بے حس
کوئی خبر نہیں ایسی جو مجھ کو چونکا دے
باصر کاظمی

جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 94
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو
وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو
رنگ ساحل کا نکھر آئے گا
دو گھڑی جانب دریا دیکھو
تلملا اٹھا گھنا سناٹا
پھر کوئی نیند سے چونکا دیکھو
ہمسفر غیر ہوئے جاتے ہیں
فاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو
برف ہو جاتا ہے صدیوں کا لہو
ایک ٹھہرا ہوا لمحہ دیکھو
رنگ اڑتے ہیں تبسم کی طرح
آئنہ خانوں کا دعویٰ دیکھو
دل کی بگڑی ہوئی صورت ہے جہاں
اب کوئی اور خرابہ دیکھو
یا کسی پردے میں گم ہو جاؤ
یا اٹھا کر کوئی پردہ دیکھو
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
سادہ کاغذ کی طرح دل چپ ہے
حاصل رنگ تمنا دیکھو
یہی تسکین کی صورت ہے تو پھر
چار دن غم کو بھی اپنا دیکھو
غمگساروں کا سہارا کب تک
خود پہ بھی کر کے بھروسہ دیکھو
اپنی نیت پہ نہ جاؤ باقیؔ
رُخ زمانے کی ہوا کی دیکھو
باقی صدیقی