ٹیگ کے محفوظات: چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں ۔ ڈاکٹر مختارالدین احمد

چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں ۔ ڈاکٹر مختارالدین احمد

چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں کے بارے میں باصِر نے اپنے قلم سے تمام توجیہات بیان کر دی ہیں ، اِس حد تک کہ مجھ جیسا متشکک بھی نثری نظم کا قائل ہوتا جا رہا ہے۔ اردو ادب میں پچھلی صدی کی ابتدا ہی سے نثری نظم کا آغاز ہو چکا تھاجس کو اُس وقت ادبِ لطیف کے نام سے موسوم کیا گیا تھا لیکن یہ دعوی نہیں کیا گیا تھاکہ اس کو نظم کہا جائے۔ جب ٹیگور کی گیتانجلی کا ترجمہ اردو میں ہوا تو وہ نثری نظم کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔ خلیل جبران کی کتاب اُس نے کہا کا ترجمہ بھی نظم اور نثر کے درمیان کی کوئی چیز معلوم ہوتا تھا بلکہ نثری نظم ہی تھا۔

جب باصِر نے بساط لکھنے کا ارادہ کیا ہو گا یہ باتیں اتنی پرانی نہیں تھیں جتنی کہ آج معلوم ہوتی ہیں ۔لیکن ایک بات جو یاد رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ ڈرامہ کلاسیکی زمانے سے منظوم ہی لکھا جاتا تھا، چاہے یونانی ڈرامہ ہو یا سنسکرت کا۔ اب بھی نثری ڈراموں کی زبان نظم کی زبان کے قریب ہوتی ہے، بلکہ ڈرامے اور sitcom میں یہی ایک فرق باقی رہ گیا ہے۔ چنانچہ جب باصِر نے ڈ رامے کی بساط بچھائی تو غیر شعوری طور پر نظمیت ان کی تحریر میں داخل ہو گئی اور کیوں نہ ہوتی کہ باصِر بنیادی طور پر شاعر ہی ہیں ۔

چونسٹھ نظموں میں کئی جگہ بھگوت گیتا اور ارتھ شاستر کی یاد آتی ہے۔ بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ بھی نثری نظم معلوم ہوتا ہے۔ گیتا سے یہ دور دراز کی مماثلت اِس لیے ہے کہ شطرنج کی بساط میدانِ جنگ ہی ہوتی ہے جہاں دو کھلاڑی مہروں سے اپنے بادشاہ کی حفاظت اور دشمن کے بادشاہ کی موت کے لیے جنگ لڑتے ہیں ۔کم و بیش یہی موضوع گیتا کا بھی ہے۔ مثلاً یہ نظم ارجن کے تذبذب کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے ورنہ تاج، ہمااور بادشاہت آج کے موضوع نہیں ہیں ، سوائے شطرنج کی بساط پر:

کیا رکھا ہے تاج میں

سر درد کے سوا۔

میں جب بھی کھُلے آسمان تلے ہوتا ہوں ،

ڈرتا رہتا ہوں ،

کہیں مجھ پر سے ہما نہ گزر جائے۔

۔۔ ’باصِر کے شعری مجموعے‘، مشمولہ ’شجر ہونے تک‘، سنگِ میل، لاہور، 2015 ۔۔

باصر کاظمی