ٹیگ کے محفوظات: چور

پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک

اعمالِ کج کریں گے تعاقب قبور تک
پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک
کچھ اور جاگ لینے دے اے شامِ زندگی
سونا ہے اس کے بعد تو صبحِ نشور تک
اپنا وہی سوال تھا اُس کا وہی جواب
کیا کیا نہ کوہ دیکھے ہمالہ سے طور تک
گذرے گا کیسے کیسے مدارج سے کیا خبر
لمبا سفر ہے خاک کے ذرے کا نور تک
غافل ہیں اِس قدر کہ گذرتا ہے یہ گمان
ہم کو جگا نہ پائے گی آوازِ صور تک
باصِرؔ کہاں ہیں روز کے وہ ہمسفر مرے
خالی پڑی ہوئی ہے سڑک دور دور تک
باصر کاظمی

زورآور نے مدِ مقابل کو محصور ہی رکھنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
اِٹھلانے کچھ کر دکھلانے سے معذور ہی رکھنا ہے
زورآور نے مدِ مقابل کو محصور ہی رکھنا ہے
ہم ایسوں کو جو بے سمت بھی ہیں اور غافل و کاہل بھی
جبر نے اپنا ہاتھ دکھانا ہے مجبور ہی رکھنا ہے
جو بھی ہے صاحبِ قامت اُسکو شاہ کے مصاحب بَونوں نے
دھج اپنی قائم رکھنے کو شاہ سے دُور ہی رکھنا ہے
ظلمتِ شب میں کرمکِ شب بھی جس کے لبوں پر چمکا ہے
دن چڑھنے پر نام اُس نے اپنا منصور ہی رکھنا ہے
اِس مقصد کو سر نہ کہیں وہ اُٹھائیں تازہ بدن ہو کر
مزدوروں کو آجر نے ہر حال میں چُور ہی رکھنا ہے
ماجِد ہم نے یہی دیکھا ہے مشفق ماؤں تک نے بھی
جو بھی کوئی سوتیلا ہو اُس کو رنجور ہی رکھنا ہے
ماجد صدیقی

ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہیں اِسی بات پہ مسرور زمانے والے
ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے
دیکھنا رُو بہ نمو پھر شجر امید کا ہے
شاخ سے جھاڑ نہ دیں بُور زمانے والے
دستبردار ہوں چاہت ہی سے خود اہلِجنوں
یوں بھی کر دیتے ہیں مجبور زمانے والے
ٹھوکروں سے نہ سہی ضربِ نگاہِ بد سے
آئنہ دل کا کریں چُور زمانے والے
برق باغوں پہ گرے یا کوئی تارا ٹوٹے
کس نے دیکھے کبھی رنجورزمانے والے
ماجد صدیقی

یہ کجکلاہی میں آپ کی ہور رہا ہے کیا کچھ حضور دیکھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
گلی گلی ہے فساد و فتنہ نگر نگر ہے فتور دیکھیں
یہ کجکلاہی میں آپ کی ہور رہا ہے کیا کچھ حضور دیکھیں
یہ ضد ہے شاہوں کو بھی، کہ معنی نہ کوئی ڈھونڈے سُخن میں اُن کے
نظر میں ہو حُسن قافیوں کا، رواں ہیں کیا کیا بُحور دیکھیں
وُہ بادباں جن کے ہاتھ میں ہیں، ڈبوئیں کشتی جہاں کہیں بھی
ہَوا کو الزام دیں ہمیشہ کبھی نہ اپنا قصور دیکھیں
وُہ جن کی تصویر سے منوّر ہے آشتی کا ہر ایک پرچم
وُہی پرندہ لٹک رہا ہے شجر پہ زخموں سے چُور دیکھیں
وُہ جن کا بس ہے رُتوں پہ ماجدؔ ہمیشہ اُن سے یہی سُنا ہے
سرِاُفق ابر کا گماں ہے، چمک سی ہے اِک وُہ دَور دیکھیں
ماجد صدیقی

کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ
آتے وقت کا آئینہ ہی شاید کچھ بتلائے
مکر و ریا کے کن زخموں سے چُور ہوئے ہم آپ
عیاروں کے جذبۂ خیر و فلاح کی سازش سے
کون کہے مقصد سے کتنی دُور ہوئے ہم آپ
صَید ہوئے جس خیر میں لپٹی، شر کا اَب کے برس
ایسے تو ماجدؔ نہ کبھی مقہور ہوئے ہم آپ
ماجد صدیقی

بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
زمیں پہ جب بھی کبھی اُس کا نور اُترا ہے
بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے
جو پھوٹتا ہے کبھی تلخیوں کی شدّت سے
لہو کی تہ میں کچھ ایسا سرور اُترا ہے
مرے سکوں کا پیمبر اسی میں ہو شاید
ابھی ابھی لبِ دریا جو پُور اُترا ہے
رہا ہے ایک سا موسم نہ بادوباراں کا
چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اُترا ہے
نگاہِ حرص لگی ہے اُسی پرندے پر
تلاشِ رزق میں ہو کر جو چُور اُترا ہے
سنی نہ ہم نے کبھی ایسی شاعری واعظ
سخن میں آپ کے کیا عکسِ حور اُترا ہے
تجھے بھی اہلِ ہوس پر کچھ اعتماد سا ہے
ترے بھی ذہن میں ماجدؔ فتور اُترا ہے
ماجد صدیقی

نظر میں جو بھی ہو منظر نشے میں چُور ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہر ایک لمحۂ بے کیف کو سُرور ملے
نظر میں جو بھی ہو منظر نشے میں چُور ملے
کہیں تو کس سے کہ تھوتھا چنا گھنا باجے
ہمیں تو اپنے بھی دل میں یہی فُتور ملے
طلب کو چاہئے آخر فراخئِ دل بھی
یہ منہ رہا تو نہ کھانے کو پھر مسُور ملے
شعُور ہو تو پسِ شاخ، برگ و گُل ہیں بہت
ہر ایک سنگ میں دیکھو تو عکسِ طور ملے
ماجد صدیقی

کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
خوشبو میں غوطہ زن تھے نہائے تھے نور میں
کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں
روشن پسِ زباں ہے الاؤ کوئی ضرور
حدت سی آ گئی ہے جو آنکھوں کے نُور میں
دونوں جہاں تھے جیسے اُسی کے تہِ قدم
اُس نے تو ہاتھ تک نہ ملایا غرُور میں
پوچھا ہے کس نے حال مری بُود و باش کا
چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنُور میں
اے پیڑ تیری خیر کہ ہیں بادِ زرد کی
پیوست انگلیاں تری شاخوں کے بُور میں
ماجدؔ چمن میں صُورتِ حالات ہے کچھ اور
پھیلی ہے سنسنی سی جو اُڑتے طیُور میں
ماجد صدیقی

آنکھ کا سُرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
اُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی
آنکھ کا سُرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی
چکھ سکے اُس سے نہ کچھ ہم پر نشہ دیتی رہی
ہاں نظر کی شاخ پر اِک بیل تھی انگور کی
حُسن کے مدِّ مقابل عشق!! اور بے چارگی؟
دل میں ہے تصویر جیسے محفل بے نُور کی
ابر مانگا تھا کہ آندھی لے اڑی برگ و ثمر!
خوب اے موجِ ہوا! کلفت ہماری دور کی
شاخ ہی سُوکھی تو پھر جھڑنے سے کیا انکار تھا
کیا کہیں آخر یہ صورت کس طرح منظور کی
اَب جراحت ہی سے ممکن ہے مداوا درد کا
اور ہی صورت ہے محرومی کے اِس ناسور کی
کھولنے پائے نہ اُس پر ہم لبِ اظہار تک
یُوں حقیقت کھُل گئی ماجدؔ دلِ رنجُور کی
ماجد صدیقی

تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 81
کیوں روٹھ کے مجھ سے کہتے ہو ملنا تجھ سے منظور نہیں
تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں
تم روز جفا و جور کرو، نالے نہ سنو، تسکین نہ دو
ہم اس دنیا میں رہتے ہیں شکووں کا جہاں دستور نہیں
واپس جانا معیوب سا ہے جب میت کے ساتھ آئے ہو
دو چار قدم کی بات ہے بس، ایسی کوئی منزل دور نہیں
آزاد ہیں ہم تو اے زاہد ارمان و تمنا کیا جانیں
جنت کا تصور کون کرے جب دل میں خیالِ حور نہیں
میں شام سے لے جر تا بہ سحر دل میں یہ کہتا رہتا ہوں
ہے چاند بے شک نور قمر لیکن ان کا سا نور نہیں
قمر جلالوی

اپنے حالات سے مجبور ہیں دوست

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 21
پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں دوست
اپنے حالات سے مجبور ہیں دوست
ترکِ الفت بھی نہیں کر سکتے
ساتھ دینے سے بھی معذور ہیں دوست
گفتگو کے لئے عنواں بھی نہیں
بات کرنے پہ بھی مجبور ہیں دوست
یہ چراغ اپنے لیے رہنے دو
تیری راتیں بھی تو بے نور ہیں دوست
سبھی پژمردہ ہیں محفل میں شکیبؔ
میں پریشان ہوں رنجور ہیں دوست
شکیب جلالی

چور

مجھے بے شمار لوگوں کا قرض ادا کرنا تھا اور یہ سب شراب نوشی کی بدولت تھا۔ رات کو جب میں سونے کے لیے چارپائی پر لیٹتا تو میرا ہر قرض خوا میرے سرہانے موجود ہوتا۔ کہتے ہیں کہ شرابی کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے ساتھ میرے ضمیر کا معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ وہ ہر روز مجھے سرزنش کرتا اور میں خفیف ہوکے رہ جاتا۔ واقعی میں نے بیسیوں آدمیوں سے قرض لیا تھا۔ میں نے ایک رات سونے سے پہلے بلکہ یوں کہیے کہ سونے کی ناکام کوشش کرنے سے پہلے حساب لگایا تو قریب قریب ڈیڑھ ہزار روپے میرے ذمے نکلے۔ میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے سوچا یہ ڈیڑھ ہزار روپے کیسے ادا ہوں گے۔ بیس پچیس روزانہ کی آمدن ہے لیکن وہ میری شراب کے لیے بمشکل کافی ہوتے ہیں۔ آپ یوں سمجھیے کہ ہر روز کی ایک بوتل۔ تھرڈ کلاس رم کی۔ دام ملاحظہ ہوں۔ سولہ روپے۔ سولہ روپے تو ایک طرف رہے، ان کے حاصل کرنے میں کم از کم تین روپے ٹانگے پر صرف ہوجاتے تھے۔ کام ہوتا نہیں تھا، بس پیشگی پر گزارہ تھا۔ لیکن جب پیشگی دینے والے تنگ آگئے تو اُنھوں نے میری شکل دیکھتے ہی کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیا یا اس سے پیشتر کہ میں ان سے ملوں کہیں غائب ہو گئے۔ آخر کب تک وہ مجھے پیشگی دیتے رہتے۔ لیکن میں مایوس نہ ہوتا اور خدا پر بھروسہ رکھ کر کسی نہ کسی حیلے سے دس پندرہ روپے اُدھار لینے میں کامیاب ہوجاتا۔ مگر یہ سلسلہ کب تک جاری رہ سکتا تھا۔ لوگ میری عزت کرتے تھے مگر اب وہ میری شکل دیکھتے ہی بھاگ جاتے تھے۔ سب کو افسوس تھا کہ اتنا اچھا مکینک تباہ ہورہاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں بہت اچھا مکینک تھا۔ مجھے کوئی بگڑی مشین دے دی جاتی تو میں اُس کو سرسری طورپر دیکھنے کے بعد یوں چٹکیوں میں ٹھیک کردیتا۔ لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں میری یہ ذہانت صرف شراب ملنے کی اُمید پرقائم تھی، اس لیے کہ میں پہلے طے کرلیا کرتا تھا کہ اگر کام ٹھیک ہو گیا تو وہ مجھے اتنے روپے ادا کردیں گے جن سے میرے دو روز کی شراب چل سکے۔ وہ لوگ خوش تھے۔ مجھے وہ تین روز کی شراب کے دام ادا کردیتے۔ اس لیے کہ جو کام میں کردیتا وہ کسی اور سے نہیں ہوسکتا تھا۔ لوگ مجھے لُوٹ رہے تھے۔ میری ذہانت وذکاوت پر میری اجازت سے ڈاکے ڈال رہے تھے۔ اور لُطف یہ ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ میں اُنھیں لُوٹ رہا ہوں۔ اُن کی جیبوں پر ہاتھ صاف کررہا ہوں۔ اصل میں مجھے اپنی صلاحتیوں کی کوئی قدر نہ تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ میکنزم بالکل ایسی ہے جیسے کھانا کھانا یا شراب پینا۔ میں نے جب بھی کوئی کام ہاتھ میں لیا مجھے کوفت محسوس نہیں ہوئی۔ البتہ اتنی بات ضرور تھی کہ جب شام کے چھ بجنے لگتے تو میری طبعیت بے چین ہوجاتی۔ کام مکمل ہو چکا ہوتا مگر میں ایک دو پیچ غائب کردیتا تاکہ دوسرے روز بھی آمدن کا سلسلہ قائم رہے۔ یہ شراب حرامزادی کتنی بُری چیز ہے کہ آدمی کو بے ایمان بھی بنادیتی ہے۔ میں قریب قریب ہر روز کام کرتا تھا۔ میری مانگ بہت زیادہ تھی اس لیے کہ مجھ ایسا کاریگر ملک بھر میں نایاب تھا۔ تار باجا اور راگ بوجھا والاحساب تھا۔ میں مشین دیکھتے ہی سمجھ جاتا تھا کہ اس میں کیا قصور ہے۔ میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں۔ مشینری کتنی ہی بگڑی ہوئی کیوں نہ ہو اُس کو ٹھیک کرنے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگنا چاہیے۔ لیکن اگر اس میں نئے پرزوں کی ضرورت ہو اور آسانی سے دستیاب نہ ہورہے ہوں تو اُس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ میں بلا ناغہ شراب پیتا تھا اور سوتے وقت بلا ناغہ اپنے قرض کے متعلق سوچتا تھا، جو مجھے مختلف آدمیوں کو ادا کرنا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا۔ پینے کے باوجود اضطراب کے باعث مجھے نیند نہ آتی۔ دماغ میں سینکڑوں اسکیمیں آتی تھیں۔ بس میری یہ خواہش تھی کہ کہیں سے دس ہزار روپے آجائیں تو میری جان میں جان آئے۔ ڈیڑھ ہزار روپیہ قرض کا فی الفور ادا کر دُوں۔ ایک ٹیکسی لُوں اور ہر قرض خواہ کے پاس جاکر معذرت طلب کروں اور جیب سے روپے نکال کر اُن کو دے دُوں۔ جو روپے باقی بچیں اُن سے ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر خرید لوں اور شراب پینا چھوڑ دُوں۔ پھر یہ خیال آتا کہ نہیں دس ہزار سے کام نہیں چلے گا۔ کم از کم پچاس ہزار ہونے چاہئیں۔ میں سوچنے لگتا کہ اگراتنے روپے آجائیں، جو یقیناً آنے چاہئیں تو سب سے پہلے میں ایک ہزار نادار لوگوں میں تقسیم کر دُوں گا۔ ایسے لوگوں میں جو روپیہ لے کر کچھ کاروبار کرسکیں۔ باقی رہے انچاس ہزار۔ اس رقم میں سے میں نے دس ہزار اپنی بیوی کو دینے کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ فکسڈ ڈیپازٹ ہونا چاہیے۔ گیارہ ہزار ہوئے باقی رہے انتالیس ہزار۔ میرے لیے بہت کافی تھے۔ میں نے سوچا یہ میری زیادتی ہے چنانچہ میں نے بیوی کا حصّہ دوگنا کردیا، یعنی بیس ہزار۔ اب بچے انتیس ہزار۔ میں نے سوچا کہ پندرہ ہزار اپنی بیوہ بہن کو دے دُوں گا۔ اب میرے پاس چودہ ہزار رہے۔ ان میں سے آپ سمجھیے کہ دو ہزار قرض کے نکل گئے۔ باقی بچے بارہ ہزار۔ ایک ہزار رُوپے کی اچھی شراب آنی چاہیے۔ لیکن میں نے فوراً تھو کردیا اور یہ سوچا کہ پہاڑ پر چلا جاؤں گا اور کم از کم چھ مہینے رہوں گا تاکہ صحت درست ہوجائے۔ شراب کے بجائے دُودھ پیا کروں گا۔ بس ایسے ہی خیالات میں دن رات گزر رہے تھے۔ پچاس ہزار کہاں سے آئیں گے یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ ویسے دو تین اسکیمیں ذہن میں تھیں۔ شمع دہلی کے معمے حل کروں اور پہلا انعام حاصل کر لُوں۔ ڈربی کی لاٹری کا ٹکٹ خرید لُوں۔ چوری کروں اور بڑی صفائی سے۔ میں فیصلہ نہ کرسکا کہ مجھے کون سا قدم اُٹھاناچاہیے۔ بہرحال یہ طے تھا کہ مجھے پچاس ہزار وپے حاصل کرنا ہیں۔ یُوں ملیں یا وُوں ملیں۔ اسکیمیں سوچ سوچ کر میرا دماغ چکرا گیا۔ رات کو نیند نہیں آتی تھی جو بہت بڑاعذاب تھا۔ قرض خواہ بے چارے تقاضا نہیں کرتے تھے لیکن جب اُن کی شکل دیکھتا تو ندامت کے مارے پسینہ پسینہ ہوجاتا۔ بعض اوقات تو میرا سانس رُکنے لگتا اور میرا جی چاہتا کہ خودکشی کر لُوں اور اس عذاب سے نجات پاؤں۔ مجھے معلوم نہیں کیسے اور کب میں نے تہیہ کرلیا کہ چوری کروں گا۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ مجھے کیسے معلوم ہوا کہ۔ محلے میں ایک بیوہ عورت رہتی ہے جس کے پاس بے اندازہ دولت ہے۔ اکیلی رہتی ہے۔ میں وہاں رات کے دو بجے پہنچا۔ یہ مجھے پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا وہ دوسری منزل پر رہتی ہے۔ نیچے پٹھان کا پہرہ تھا میں نے سوچا کوئی اور ترکیب سوچنی چاہیے اوپر جانے کے لیے۔ میں ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ میں نے خود کو اس پارسی لیڈی کے فلیٹ کے اندر پایا۔ میرا خیال ہے کہ میں پائپ کے ذریعے اُوپر چڑھ گیا تھا۔ ٹارچ میرے پاس تھی۔ اُس کی روشنی میں میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ایک بہت بڑا سیف تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی سیف کھولا تھا نہ بند کیا تھا لیکن اس وقت جانے مجھے کہاں سے ہدایت ملی کہ میں نے ایک معمولی تار سے اُسے کھول ڈالا۔ اندر زیور ہی ز یور تھے۔ بہت بیش قیمت۔ میں نے سب سمیٹے اور مکے مدینے والے زرد رومال میں باندھ لیے۔ پچاس ساٹھ ہزارروپے کا مال ہو گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اتناہی چاہیے تھا۔ کہ اچانک دوسرے کمرے سے ایک بُڑھیا پارسی عورت نمودار ہوئی۔ اُس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر پوپلی سی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ میں بہت حیران ہوا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ میں نے اپنی جیب سے بھرا ہوا پستول نکال کرتان لیا۔ اس کی پوپلی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر اور زیادہ پھیل گئی۔ اُس نے مجھے بڑے پیار سے پوچھا۔

’’آپ یہاں کیسے آئے؟‘‘

میں نے سیدھا سا جواب دیا۔

’’چوری کرنے۔ ‘‘

’’اوہ!‘‘

بُڑھیا کے چہرے کی جھریاں مسکرانے لگیں۔

’’تو بیٹھو۔ میرے گھر میں تو نقدی کی صورت میں صرف ڈیڑھ روپیہ ہے۔ تم نے زیور چرایا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ تم پکڑے جاؤ گے کیونکہ ان زیوروں کو صرف کوئی بڑا جوہری ہی لے سکتا ہے۔ اور ہر بڑا جوہری انھیں پہچانتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ کُرسی پر بیٹھ گئی۔ میں بہت پریشان تھا کہ یا الٰہی یہ سلسلہ کیا ہے۔ میں نے چوری کی ہے اور بڑی بی مسکرا مسکرا کر مجھ سے باتیں کررہی ہے۔ کیوں؟ لیکن فوراً اس کیوں کا مطلب سمجھ میں آگیا جب ماتا جی نے آگے بڑھ کر میرے پستول کی پروانہ کرتے ہُوئے میرے ہونٹوں کا بوسہ لے لیا اور اپنی بانھیں میری گردن میں ڈال دیں۔ اس وقت خدا کی قسم میرا جی چاہا کہ گٹھڑی ایک طرف پھینکوں اور وہاں سے بھاگ جاؤں۔ مگر وہ تسمہ پا عورت نکلی اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ میں مطلقاً ہل جل نہ سکا۔ اصل میں میرے ہر رگ و ریشے میں ایک عجیب و غریب قسم کا خوف سرایت کرگیا تھا۔ میں اسے ڈائن سمجھنے لگا تھا جو میرا کلیجہ نکال کرکھانا چاہتی تھی۔ میری زندگی میں کسی عورت کا دخل نہیں تھا۔ میں غیر شادی شدہ تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے تیس برسوں میں کسی عورت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر پہلی رات جب کہ میں چوری کرنے کے لیے نکلا تو مجھے یہ پھپھا کُٹنی مل گئی جس نے مجھ سے عشق کرنا شروع کردیا۔ آپ کی جان کی قسم میرے ہوش و حواس غائب ہو گئے۔ وہ بہت ہی کریہہ المنظر تھی میں نے اُس سے ہاتھ جوڑ کر کہا۔

’’ماتا جی مجھے بخشو۔ یہ پڑے ہیں آپ کے زیور۔ مجھے اجازت دیجیے۔ ‘‘

اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔

’’تم نہیں جاسکتے۔ تمہارا پستول میرے پاس ہے۔ اگر تم نے ذرا سی بھی جنبش کی تو ڈز کردوں گی۔ یاٹیلی فون کرکے پولیس کو اطلاع دے دُوں گی کہ وہ آکر تمھیں گرفتار کرلے۔ لیکن جانِ من میں ایسا نہیں کروں گی۔ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔ میں ابھی تک کنواری رہی ہوں۔ اب تم یہاں سے نہیں جاسکتے۔ ‘‘

یہ سُن کر قریب تھا کہ میں بے ہوش ہوجاؤں کہ ٹن ٹن شروع ہوئی۔ دُور کوئی کلاک صبح کے پانچ بجنے کی اطلاع دے رہا تھا۔ میں نے بڑی بی کی ٹھوڑی پکڑی اور اُس کے مُرجھائے ہوئے ہونٹوں کا بوسہ لے کر جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔

’’میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں عورتیں دیکھی ہیں لیکن خدا واحد شاہد ہے کے تم ایسی عورت سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا۔ تم کسی بھی مرد کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی پہلی چوری تمہارے مکان سے شروع کی۔ یہ زیور پڑے ہیں۔ میں کل آؤنگا بشرطیکہ تم وعدہ کرو کہ مکان میں اور کوئی نہیں ہو گا۔ ‘‘

بڑھیا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی۔

’’ضرور آؤ۔ تم اگر چاہو گے تو گھر میں ایک مچھر تک بھی نہیں ہو گا جو تمہارے کانوں کو تکلیف دے۔ مجھے افسوس ہے کہ گھر میں صرف ایک روپیہ اور آٹھ آنے تھے۔ کل تم آؤ گے تو میں تمہارے لیے بیس پچیس ہزار بنک سے نکلوالوں گی۔ یہ لو اپنا پستول۔ ‘‘

میں نے اپنا پستول لیا اور وہاں سے دُم دبا کر بھاگا۔ پہلا وار خالی گیا تھا۔ میں نے سوچا کہیں اور کوشش کرنی چاہیے۔ قرض ادا کرنے ہیں اورجو میں نے پلان بنایا ہے اُس کی تکمیل بھی ہوناچاہیے۔ چنانچہ میں نے ایک جگہ اور کوشش کی۔ سردیوں کے دن تھے صبح کے چھ بجنے والے تھے۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب سب گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔ مجھے ایک مکان کا پتہ تھا کہ اس کا جو مالک ہے بڑا مالدار ہے۔ بہت کنجوس ہے۔ اپنا روپیہ بینک میں نہیں رکھتا۔ گھر میں رکھتا ہے۔ میں نے سوچا اُس کے ہاں چلنا چاہئے۔ میں وہاں کن مشکلوں سے اندر داخل ہوا میں بیان نہیں کرسکتا۔ بہرحال پہنچ گیا۔ صاحب خانہ جو ماشاء اللہ جوان تھے۔ سورہے تھے۔ میں نے اُن کے سرہانے سے چابیاں نکالیں اور الماریاں کھولنا شروع کردیں۔ ایک الماری میں کاغذات تھے اور کچھ فرنچ لیدر۔ میری سمجھ میں نہ آیا کہ یہ شخص جو کنوارا ہے فرنچ لیدر کہاں استعمال کرتا ہے۔ دوسری الماری میں کپڑے تھے۔ تیسری بالکل خالی تھی معلوم نہیں اس میں تالا کیوں پڑا ہوا تھا۔ اور کوئی الماری نہیں تھی۔ میں نے تمام مکان کی تلاشی لی لیکن مجھے ایک پیسہ بھی نظر نہ آیا۔ میں نے سوچا اس شخص نے ضرور اپنی دولت کہیں دبا رکھی ہو گی۔ چنانچہ میں نے اس کے سینے پر بھرا ہوا پستول رکھ کر اُسے جگایا۔ وہ ایساچونکا اور بدکا کہ میرا پستول فرش پر جاپڑا۔ میں نے ایک دم پسول اٹھایا اور اُس سے کہا۔

’’میں چور ہوں۔ یہاں چوری کرنے آیا ہوں۔ لیکن تمہاری تین الماریوں سے مجھے ایک دمڑی بھی نہیں ملی۔ حالانکہ میں نے سُنا تھا کہ تم بڑے مالدار آدمی ہو۔ ‘‘

وہ شخص جس کا نام مجھے اب یاد نہیں مسکرایا۔ انگڑائی لے کر اُٹھا اور مجھے سے کہنے لگا۔

’’یار تم چور ہو تو تم نے مجھے پہلے اطلاع دی ہوتی۔ مجھے چوروں سے بہت پیار ہے۔ یہاں جو بھی آتا ہے وہ خود کو بڑا شریف آدمی کہتا ہے حالانکہ وہ اوّل درجے کا کالا چور ہوتا ہے۔ مگر تم چور ہو۔ تم نے اپنے آپ کو چھیایا نہیں ہے۔ میں تم سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اُس نے مجھے سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد ریفریجریٹر کھولا۔ میں سمجھا شاید میری تواضع شربت وغیرہ سے کرے گا۔ لیکن اُس نے مجھے بُلایا اور کھلے ہوئے ریفریجریٹر کے پاس لے جاکر کہا۔

’’دوست میں اپنا سارا روپیہ اس میں رکھتا ہوں۔ یہ صندوقچی دیکھتے ہو۔ اس میں قریب قریب ایک لاکھ روپیہ پڑا ہے۔ تمھیں کتنا چاہیے؟‘‘

اُس نے صندوقچی باہر نکالی جو یخ بستہ تھی۔ اُسے کھولا۔ اندر سبز رنگ کے نوٹوں کی گڈیاں پڑی تھیں۔ ایک گڈی نکال کر اس نے میرے ہاتھ میں تھمادی اور کہا۔

’’بس اتنے کافی ہوں گے۔ دس ہزار ہیں۔ ‘‘

میری سمجھ میں نہ آیا کہ اُسے کیا جواب دُوں۔ میں تو چوری کرنے آیا تھا۔ میں نے گڈی اُس کو واپس دی اور کہا۔

’’صاحب! مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ مجھے معافی دیجیے۔ پھر کبھی حاضر ہوں گا۔ ‘‘

میں وہاں سے آپ سمجھیے کہ دُم دبا کر بھاگا گھر پہنچا تو سورج نکل چکا تھا۔ میں نے سوچا کہ چوری کا ارادہ ترک کردینا چاہیے۔ دوجگہ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا۔ دوسری رات کو کوشش کرتا تو کامیابی یقینی نہیں تھی۔ لیکن قرض بدستور اپنی جگہ پر موجود تھا جو مجھے بہت تنگ کررہا تھا۔ حلق میں یوں سمجھیے کہ ایک پھانس سی اٹک گئی تھی۔ میں نے بالآخر یہ ارادہ کرلیا کہ جب اچھی طرح سوچکوں گا تو اُٹھ کر خود کشی کر لُوں گا۔ سو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں اُٹھا۔ دروازہ کھولا۔ ایک بزرگ آدمی کھڑے تھے۔ میں نے اُن کو آداب عرض کیا۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا۔

’’لفافہ دینا تھا اس لیے آپ کو تکلیف دی۔ معاف فرمائے گا، آپ سورہے تھے۔ ‘‘

میں نے اُس سے لفافہ لیا۔ وہ سلام کر کے چلے گئے۔ میں نے درواز بند کیا۔ لفافہ کافی وزنی تھا۔ میں نے اُسے کھولا اور دیکھا کہ سو سو روپے کے بے شمار نوٹ ہیں۔ گنے تو پچاس ہزار نکلے۔ ایک مختصر سا رقعہ تھا، جس میں لکھا تھا کہ آپ کے یہ روپے مجھے بہت دیر پہلے ادا کرنے تھے۔ افسوس ہے کہ میں اب ادا کرنے کے قابل ہوا ہوں‘‘

میں نے بہت غور کیا کہ یہ صاحب کون ہوسکتے ہیں جنہوں نے مجھ سے قرض لیا۔ سوچتے سوچتے میں نے آخر سوچا کہ ہوسکتا ہے کسی نے مجھ سے قرض لیا ہو جو مجھے یاد نہ رہا ہو۔ بیس ہزار اپنی بیوی کو۔ پندرہ ہزار اپنی بیوہ بہن کو۔ دو ہزار قرض کے۔ باقی بچے تیرہ ہزار۔ ایک ہزار میں اچھی شراب کے لیے رکھ لیے۔ پہاڑ پر جانے اور دُودھ پینے کا خیال میں نے چھوڑ دیا۔ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ اُٹھ کر باہر گیا۔ دروزہ کھولا تو میرا ایک قرض خواہ کھڑا تھا۔ اُس نے مجھ سے پانچ سو روپے لینا تھے۔ میں لپک کر اندر گیا۔ تکیے کے نیچے نوٹوں کا لفافہ دیکھا مگر وہاں کچھ موجود ہی نہیں تھا۔

سعادت حسن منٹو

پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ

دیوان ششم غزل 1871
نظر آیا تھا صبح دور سے وہ
پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ
جز برادر عزیز یوسف کو
نہیں لکھتا کبھو غرور سے وہ
دیکھیں عاشق کا جی بھی ہے کہ نہیں
تنگ ہے جان ناصبور سے وہ
کیا تصور میں پھیرے ہے صورت
کہ سرکتا نہیں حضور سے وہ
خوبی اس خوبی سے بشر میں کہاں
خوب تر ہے پری و حور سے وہ
دل لیا جس غمیں کا تونے شوخ
دے گیا جی ہی اک سرور سے وہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
میر تقی میر

وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع

دیوان پنجم غزل 1646
کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع
وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع
وہ بیٹھا ہے جیسے نکلے چودھویں رات کا چاند کہیں
روشن ہے کیا ہو گی طرف اس طرح رخ پر نور سے شمع
آگے اس کے فروغ نہ تھا جلتی تھی بجھی سی مجلس میں
تب تو لوگ اٹھا لیتے تھے شتابی اس کے حضور سے شمع
جلنے کو آتی ہیں جو ستیاں میر سنبھل کر جلتی ہیں
کیا بے صرفہ رات جلی بے بہرہ اپنے شعور سے شمع
میر تقی میر

یعنی آنسو پی پی گئے سو زخم جگر ناسور ہوئے

دیوان چہارم غزل 1516
عشق چھپاکر پچھتائے ہم سوکھ گئے رنجور ہوئے
یعنی آنسو پی پی گئے سو زخم جگر ناسور ہوئے
ہم جو گئے سرمست محبت اس اوباش کے کوچے میں
کھائیں کھڑی تلواریں اس کی زخمی نشے میں چور ہوئے
کوئی نہ ہم کو جانے تھا ہم ایسے تھے گمنام آگے
یمن عشق سے رسوا ہوکر شہروں میں مشہور ہوئے
کیا باطل ناچیز یہ لونڈے قدر پر اپنی نازاں ہیں
قدرت حق کے کھیل تو دیکھو عاشق بے مقدور ہوئے
سر عاشق کا کاٹ کے ان کو سربگریباں رہنا تھا
سو تو پگڑی پھیر رکھی ہے اور بھی وے مغرور ہوئے
زرد و زبون و زار ہوئے ہیں لطف ہے کیا اس جینے کا
مردے سے بھی برسوں کے ہم ہجراں میں بے نور ہوئے
پاس ہی رہنا اکثر اس کے میر سبب تھا جینے کا
پہنچ گئے مرنے کے نزدیک اس سے جو ٹک دور ہوئے
میر تقی میر

کیا قیامت کا قیامت شور ہے

دیوان سوم غزل 1280
گوش ہر یک کا اسی کی اور ہے
کیا قیامت کا قیامت شور ہے
پوچھنا اس ناتواں کا خوب تھا
پر نہ پوچھا ان نے وہ بھی زور ہے
صندل درد سر مہر و وفا
عاقبت دیکھا تو خاک گور ہے
رشتۂ الفت تو نازک ہے بہت
کیا سمجھ کر خلق اس پر ڈور ہے
ناکسی سے میر اس کوچے کے بیچ
اس طرح نکلے ہے جیسے چور ہے
میر تقی میر

جوانی دوانی ہے مشہور ہے

دیوان دوم غزل 1035
جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
جوانی دوانی ہے مشہور ہے
کہو چشم خوں بار کو چشم تم
خدا جانے کب کا یہ ناسور ہے
فلک پر جو مہ ہے تو روشن ہے یہ
کہ منھ سے ترے نسبت دور ہے
گدا شاہ دونوں ہیں دل باختہ
عجب عشق بازی کا دستور ہے
قیامت ہے ہو گا جو رفع حجاب
نہ بے مصلحت یار مستور ہے
ہم اب ناتوانوں کو مرنا ہے صرف
نہیں وہ کہ جینا بھی منظور ہے
ستم میں ہماری قسم ہے تمھیں
کرو صرف جتنا کہ مقدور ہے
نیاز اپنا جس مرتبے میں ہے یاں
اسی مرتبے میں وہ مغرور ہے
ہوا حال بندے کا گو کچھ خراب
خدائی ابھی اس کی معمور ہے
گیا شاید اس شمع رو کا خیال
کہ اب میر کے منھ پہ کچھ نور ہے
میر تقی میر

پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک

دیوان دوم غزل 839
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک
پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک
حال میرا شہر میں کہتے رہیں گے لوگ دیر
اس فسانے کے تئیں ہونے تو دو مشہور ٹک
پشت پا مارے ہیں شاہی پر گداے کوے عشق
دیکھو تم یاں کا خدا کے واسطے دستور ٹک
چاہنے کا مجھ سے بے قدرت کا کیا ہے اعتبار
عشق کرنے کو کسو کے چاہیے مقدور ٹک
حق تو سب کچھ تھا ہی ناحق جان دی کس واسطے
حوصلے سے بات کرتا کاشکے منصور ٹک
منکرحسن بتاں کیونکر نہ ہووے شیخ شہر
حق ہے اس کی اور وہ آنکھوں سے ہے معذور ٹک
پھر کہیں کیا دل لگایا میر جو ہے زرد رو
منھ پر آیا تھا ترے دو چار دن سے نور ٹک
میر تقی میر

ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا

دیوان دوم غزل 694
اس قدر آنکھیں چھپاتا ہے تو اے مغرور کیا
ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا
وصل و ہجراں سے نہیں ہے عشق میں کچھ گفتگو
لاگ دل کی چاہیے ہے یاں قریب و دور کیا
ہو خرابی اور آبادی کی عاقل کو تمیز
ہم دوانے ہیں ہمیں ویران کیا معمور کیا
اٹھ نہیں سکتا ترے در سے شکایت کیا مری
حال میں اپنے ہوں عاجز میں مجھے مقدور کیا
سب ہیں یکساں جب فنا یک بارگی طاری ہوئی
ٹھیکرا اس مرتبے میں کیا سر فغفور کیا
لطف کے حرف و سخن پہلے جو تھے بہر فریب
مدتیں جاتی ہیں ان باتوں کا اب مذکور کیا
دیکھ بہتی آنکھ میری ہنس کے بولا کل وہ شوخ
بہ نہیں اب تک ہوا منھ کا ترے ناسور کیا
میں تو دیکھوں ہوں تمھارے منھ کو تم نے دل لیا
تم مجھے رہتے ہو اکثر مجلسوں میں گھور کیا
ابر سا روتا جو میں نکلا تو بولا طنز سے
آرسی جا دیکھ گھر برسے ہے منھ پر نور کیا
سنگ بالیں میر کا جو باٹ کا روڑا ہوا
سخت کر جی کو گیا اس جا سے وہ رنجور کیا
میر تقی میر

شور سا ہے تو ولیکن دور کا

دیوان دوم غزل 682
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
شور سا ہے تو ولیکن دور کا
حق تو سب کچھ ہی ہے تو ناحق نہ بول
بات کہتے سر کٹا منصور کا
بیچ سے کب کا گیا اب ذکر کیا
اس دل مرحوم کا مغفور کا
طرفہ آتش خیز سنگستاں ہے دل
مقتبس یاں سے ہے شعلہ طور کا
مر گئے پر خاک ہے سب کبر و ناز
مت جھکو سر گو کسو مغرور کا
ٹھیکری کو قدر ہے اس کو نہیں
ٹوٹے جب کاسہ سر فغفور کا
ہو کھڑا وہ تو پری سی ہے کھڑی
منھ کھلے تو جیسے چہرہ حور کا
دیکھ اسے کیونکر ملک بھیچک نہ ہوں
آنکھ کے آگے یہ بکّا نور کا
چشم بہنے سے کبھو رہتی نہیں
کچھ علاج اے میر اس ناسور کا
میر تقی میر

دے بھی مے ابر زور آیا ہے

دیوان اول غزل 604
ساقی گھر چاروں اور آیا ہے
دے بھی مے ابر زور آیا ہے
ذوق تیرے وصال کا میرے
ننگے سر تا بہ گور آیا ہے
بوجھ اٹھاتا ہوں ضعف کا شاید
ہاتھ پائوں میں زور آیا ہے
غارت دل کرے ہے ابرسیاہ
بے طرح گھر میں چور آیا ہے
آج تیری گلی سے ظالم میر
لوہو میں شور بور آیا ہے
میر تقی میر

بے طاقتی دل کو بھی مقدور ہوا ہے

دیوان اول غزل 598
تن ہجر میں اس یار کے رنجور ہوا ہے
بے طاقتی دل کو بھی مقدور ہوا ہے
پہنچا نہیں کیا سمع مبارک میں مرا حال
یہ قصہ تو اس شہر میں مشہور ہوا ہے
بے خوابی تری آنکھوں پہ دیکھوں ہوں مگر رات
افسانہ مرے حال کا مذکور ہوا ہے
کل صبح ہی مستی میں سرراہ نہ آیا
یاں آج مرا شیشۂ دل چور ہوا ہے
کیا سوجھے اسے جس کے ہو یوسف ہی نظر میں
یعقوب بجا آنکھوں سے معذور ہوا ہے
پر شور سے ہے عشق مغنی پسراں کے
یہ کاسۂ سر کاسۂ طنبور ہوا ہے
تلوار لیے پھرنا تو اب اس کا سنا میں
نزدیک مرے کب کا یہ سر دور ہوا ہے
خورشید کی محشر میں طپش ہو گی کہاں تک
کیا ساتھ مرے داغوں کے محشور ہوا ہے
اے رشک سحر بزم میں لے منھ پہ نقاب اب
اک شمع کا چہرہ ہے سو بے نور ہوا ہے
اس شوق کو ٹک دیکھ کہ چشم نگراں ہے
جو زخم جگر کا مرے ناسور ہوا ہے
میر تقی میر

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

دیوان اول غزل 545
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
جرس راہ میں جملہ تن شور ہے
مگر قافلے سے کوئی دور ہے
تمناے دل کے لیے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
نہ ہو کس طرح فکر انجام کار
بھروسا ہے جس پر سو مغرور ہے
پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ
کسو کا مگر خون منظور ہے
دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج
گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل
وہی بے قراری بدستور ہے
نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو
مگر چشم خونبار ناسور ہے
تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ
نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے
بہت سعی کریے تو مر رہیے میر
بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے
میر تقی میر

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

دیوان اول غزل 496
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
یاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی
چشم شیر اپنا چراغ گور ہے
جب سے کاغذباد کا ہے شوق اسے
ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ
وائے وہ جس کا عصاکش کور ہے
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا
صبح کی بھی بائو بادی چور ہے
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف
کیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
تھا بلا ہنگامہ آرا میر بھی
اب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
میر تقی میر

نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے

دیوان اول غزل 495
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگر
کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابرتر
قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی
دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں
ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں
بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میر بھی اس گلی میں صبا
بہت پوچھیو تو مری اور سے
میر تقی میر

ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 398
ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو
ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو
کھویا ہمارے ہاتھ سے آئینے نے اسے
ایسا جو پاوے آپ کو مغرور کیوں نہ ہو
حق برطرف ہے منکر دیدار یار کے
جو شخص ہووے آنکھوں سے معذور کیوں نہ ہو
گیسوے مشک بو کو اسے ضد ہے کھولنا
پھر زخم دل فگاروں کا ناسور کیوں نہ ہو
صورت تو تیری صفحۂ خاطر پہ نقش ہے
ظاہر میں اب ہزار تو مستور کیوں نہ ہو
صافی شست سے ہے غرض مشق تیر سے
سینہ کسو کا خانۂ زنبور کیوں نہ ہو
مجنوں جو دشت گرد تھا ہم شہر گرد ہیں
آوارگی ہماری بھی مذکور کیوں نہ ہو
تلوار کھینچتا ہے وہ اکثر نشے کے بیچ
زخمی جو اس کے ہاتھ کا ہو چور کیوں نہ ہو
خالی نہیں بغل کوئی دیوان سے مرے
افسانہ عشق کا ہے یہ مشہور کیوں نہ ہو
مجھ کو تو یہ قبول ہوا عشق میں کہ میر
پاس اس کے جب گیا تو کہا دور کیوں نہ ہو
میر تقی میر

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

دیوان اول غزل 341
بزم میں جو ترا ظہور نہیں
شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لائوں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر تقی میر

اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا

دیوان اول غزل 91
پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا
اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا
کیا کیا عزیز خلع بدن ہائے کر گئے
تشریف تم کو یاں تئیں لانا ضرور تھا
کیونکر تو میری آنکھ سے ہو دل تلک گیا
یہ بحر موج خیز تو عسرالعبور تھا
شاید نشے میں اس سے یہ سفاکیاں ہوئیں
زخمی جو اس کے ہاتھ کا نکلا سو چور تھا
جیتے جی پاس ہوکے نہ نکلا کسو کے میر
وہ دور گرد بادیۂ عشق دور تھا
میر تقی میر

کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا

دیوان اول غزل 56
کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا
کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا
لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے
آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا
گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے
جی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا
چشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا
ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا
ناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کی
اب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا
لے کہیں منھ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبح
شمع کے چہرئہ رخشاں سے تو اب نور گیا
نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ
کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا
میر تقی میر

گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا

دیوان اول غزل 18
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ
جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب
دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول
جو تیری صیدگاہ سے ٹک دور ہو گیا
دیکھا یہ ناونوش کہ نیش فراق سے
سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ
اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ
میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا
جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میر ہی نہیں
تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی
اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی
رفتہ و آئندہ اس میں متصّل آئے نظر
ہر گھڑی جیسے میری تاریخ کا منشور تھی
شام کی ڈھلوان سے اُسکو اترتے دیکھئے
وُہ جو دن میں روشنی کے نام سے مشہور تھی
خیر ہو خوابوں سرابوں کی کہ اُس کو پا لیا
بعد میں جانا کہ منزل تو ابھی کچھ دور تھی
روز و شب کی گردشوں کے ساتھ پیہم گھومنا
زندگی ایسی مسافت کی تھکن سے چور تھی
لو فرازِ دار پر اپنی گواہی دے چلے
ہم بجا لائے اُسے جو سنّت منصور تھی
آفتاب اقبال شمیم

اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا
یہی کہ اُس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا
میں ڈوب کر بھی کسی دَور میں نہیں ڈوبا
رہا ہے مطلعِٔ اِمکان میں ظہور مرا
اِسے اب عہدِ الم کی عنایتیں کہئے
کہ ظلمتوں میں اُجاگر ہوا ہے نور مرا
میں اِس لحاظ سے بے نام، نام آور ہوں
کہ میرے بعد ہوا ذکر دُور دُور مرا
آفتاب اقبال شمیم

اور پاؤں کئی چوکور چلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 558
بستی سے تری ،کمزور چلے
اور پاؤں کئی چوکور چلے
صحرا میں کہیں بھی ابر نہیں
دریا پہ گھٹا گھنگھور چلے
پھر میرے میانوالی نے کہا
تم لوگ کہاں لاہور چلے
یادوں میں مثالِ قوسِ قزح
رنگوں سے بھرا بلور چلے
گلیوں میں کہیں بندوق چلی
حکام مرے پُر شور چلے
دوچار پرندے ساتھ گریں
جس وقت یہ بارہ بور چلے
اب رنگ بدل کر پھول کھلیں
اب چال بدل کر مور چلے
میں اور جہاں خاموش رہا
سامان اٹھا کر چور چلے
منصور کہانی روندی گئی
کردار بڑے منہ زور چلے
منصور آفاق

کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 537
بھر گئی تھی بیسمنٹ نیکیوں کے شور سے
کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے
نیم گرم دودھ کے ٹب میں میرے جسم کا
روشنی مساج کر اپنی پور پور سے
زاویہ وصال کا رہ نہ جائے ایک بھی
شاد کام جسم ہو لمس کے سکور سے
فاختہ کے خون سے ہونٹ اپنے سرخ رکھ
فائروں کے گیت سن اپنی بارہ بور سے
بام بام روشنی پول پول لائٹیں
رابطے رہے نہیں چاند کے چکور سے
وحشتِ گناہ سے نوچ لے لباس کو
نیکیوں کی پوٹلی کھول زور زور سے
واعظوں کی ناف پر کسبیوں کے ہاتھ ہیں
کوتوالِ شہر کی دوستی ہے چور سے
شیر کے شکار پر جانے والی توپ کی
رات بھر بڑی رہی بات چیت مور سے
خوابِ گاہِ یاد کی ایک الف داستاں
سُن پرانی رات میں اُس نئی نکور سے
منصور آفاق

مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 420
دکھائی دے نگاہوں کو چراغِ طور کا چہرہ
مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ
مسلسل ابر وباراں میں کئی صدیاں گزار آئیں
دمشقِ صبح کی آنکھیں ، فراتِ نور کا چہرہ
جنابِ شیخ کو غلمان کی آنکھیں پسند آئیں
مجھے اچھا لگا اک کھکھلاتی حور کا چہرہ
مری تہذیب کا نغمہ ، اذاں میرے تمدن کی
یہی میلاد کی آنکھیں یہی عاشور کا چہرہ
اندھیری رات سے اُس زلف کوتشبیہ کیسے دوں
بھرا ہے غم کی کالک سے شبِ دیجور کا چہرہ
سنو جنت کے پھولوں سے کہیں بڑھ کر ہے پاکیزہ
کڑکتی دھوپ میں کھلتا ہوا مزدور کا چہرہ
ستم ہے لوگ پاکستان کہتے ہیں اسے منصور
بدلتاہے جہاں اقدار کا دستور کا چہرہ
منصور آفاق

خوب ہے تیری بزم کا دستور

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 8
کوئی مختار اور کوئی مجبور
خوب ہے تیری بزم کا دستور
غم زدوں کا نہ پوچھئے مقدور
موت بھی دور، زندگی بھی دور
ظلمت زیست کی بساط ہی کیا
مے کا اک گھونٹ اور نور ہی نور
کیا بتائیں کہ زندگی کیا ہے
ایک منزل مگر قریب نہ دور
وضعداری بھی سیکھ لے باقیؔ
یہ بھی ہے اک جہان کا دستور
باقی صدیقی