ٹیگ کے محفوظات: چنے

اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 294
مرتے ہوئے سورج پر دو شعر کہے جائیں
اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں
گل کرتا ہوں اب شمعیں ا ے قافلے والومیں
جو چاہتے ہیں جانا ،وہ لوگ چلے جائیں
چل سندھ کے ساحل پرہر موجہ ء طوفاں میں
دریا کے مغنی سے کچھ گیت سنے جائیں
پھر پائے محمدﷺکے مصحف کی تلاوت ہو
پھر نقشِ کفِ پا کے الہام پڑھے جائیں
سو زخم اثاثہ ہوں اک پاؤں دھروں جب بھی
خنجر مرے رستے میں اس طرح چنے جائیں
ہم دار ستادوں سے منصور نہیں ممکن
جس سمت زمانہ ہو اس سمت بہے جائیں
منصور آفاق