ٹیگ کے محفوظات: چندا

کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا

ہو کوئی بھی کاروبار دھندا
کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا
واعظ نے لگا دیا کہیں اور
مسجد کے لیے ملا جو چندا
راجا ترا ہار موتیوں کا
بن جائے گا کل گَلے کا پھندا
اب ہم ہی کریں گے صاف یہ شہر
ہم نے ہی اِسے کیا ہے گندا
ہیں شعر نئے سو کھُردرے ہیں
درکار ہے خواندگی کا رَندا
کاغذ پہ نہ چھپ سکا جو قول
پتھّر پہ کیا گیا ہے کندہ
باصر کاظمی

جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
آنکھوں میں آباد ہے ویرانہ سا جیسے
جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے
کوئی چکور نہیں آتا ہے اُڑ کر ہم تک
ہم تنہا ہیں آسمان پر چندا جیسے
جب سے باغ نے ابر سے ہم آغوشی چاہی
اُڑنے لگا وہ اور بھی، اور بھی اُونچا جیسے
چھنی سماعت سے جب سے بُوندوں کی آہٹ
چاروں اور ہے ہیبت زا سنّاٹا جیسے
جب سے ماجِد عمر کی پت جھڑ زوروں پر ہے
گرد آلود ہُوئی ہر ایک تمنّا جیسے
ماجد صدیقی