ٹیگ کے محفوظات: چنتا

میں بھی تیرے جیسا ہوں

اپنی دُھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
او پچھلی رُت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دُکھ کے کنکر چنتا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں
میرا دِیا جلائے کون
مَیں ترا خالی کمرہ ہوں
تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں
تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں
آتی رُت مجھے روئے گی
جاتی رُت کا جھونکا ہوں
اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں
ناصر کاظمی

میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
کون نہیں اور کون، کہوں، مجھ کو بھاتا ہے
میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے
وقت ہمیں بھی اَب وہ لاڈ دلائے جیسے
نوکر مالک کے بچّے کو بہلاتا ہے
جس کے مُنہ پر جھُوٹ ہے سچّا اُس کو جانو
سچ کہتا ہے جو بھی شخص وُہی جھُوٹا ہے
رُت، جو پھُول لُٹے ہیں شاید پھر لوٹا دے
دل میں باقی ہے تو ایک یہی آشا ہے
ہونٹ ہی حرف و صوت سے کچھ محروم نہیں ہیں
آنکھوں تک میں بھی اِک جیسا سناٹا ہے
کشتی کے پتوار نہ جل ہی سے جل جائیں
ہر راہرو کے ذہن میں ایک یہی چِنتا ہے
کانوں میں پھنکار سی اِک پہنچی ہے، کہیں سے
چڑیوں پر پھر شاید سانپ کہیں جھپٹا ہے
ماجد صدیقی