ٹیگ کے محفوظات: چناؤ

مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ

میں بُھول جاؤں نہ رکھ رکھاؤ ، نئے خُداؤ!
مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ!
مِری حِماقت پہ قہقہے کیوں لگا رہے ہو؟
قفس ہے اپنا نیا پڑاؤ ، نئے خُداؤ!
میں کُوفیوں کی طرح نہیں ہوں کہ چھوڑ جاؤں
مِری محبّت ہے سبز ناؤ! نئے خُداؤ!
غریبِ شہرِ اجل کی خاطر نئے سُروں میں
بھجن پُرانا کوئی سُناؤ ، نئے خُداؤ!
خُدا پرستوں کو بیچنے میں بقا ہے سب کی
ہمیں بھی بیچو ، شرف کماؤ ، نئے خُداؤ!
نئے خُداؤں کا اِنتخاب آج ہو رہا ہے
بتاؤ کیسے کریں چناؤ؟ نئے خُداؤ!!
میں اِس سے پہلے کہ خُودکُشی کو حیات بخشوں
مِری، محبّت سے جاں چُھڑاؤ ، نئے خُداؤ!
افتخار فلک

کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں
ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے
سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں
وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے
ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں
شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں
اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں
زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں
ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں
چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا
جبیں پہ اہلِ وفا کی، تناؤ جیسے ہیں
جو ہم ہوئے بھی تو کیا ، یوسفِ سخن ماجد
عیاں ہیں سب پہ ہم ایسوں کے بھاؤ جیسے ہیں
ماجد صدیقی