ٹیگ کے محفوظات: چلایا

دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
حدّتِ خوں کے تقاضے نہ چھپایا کیجے
دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے
سرد مہری سا بُرا وار نہ کیجے ہم پر
جانبِ غیر ہی یہ تِیر چلایا کیجے
یہ جنہیں مطلعِٔ انوار سمجھتے ہیں سبھی
ان لبوں سے کوئی مژدہ بھی سُنایا کیجے
حاصلِ عمر ہے یہ حرف، میانِ لب و چشم
خواہش قرب نہ باتوں میں اُڑایا کیجے
تشنگی جس سے کبھی دیدۂ باطن کی مِٹے
ایسا منظر بھی کبھی کوئی دکھایا کیجے
سامنا پھر نہ کسی لمحۂ گُستاخ سے ہو
دل میں سوئے ہوئے ارماں نہ جگایا کیجے
ہم مصوّر تجھے ٹھہرائیں کہ شاعر ماجدؔ
عکسِ جاناں ہی بہ ہر حرف نہ لایا کیجے
ماجد صدیقی

ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا

دیوان اول غزل 67
گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا
ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا
آہ جو نکلی مرے منھ سے تو افلاک کے پاس
اس کے آشوب کے عہدے سے برآیا نہ گیا
گل نے ہر چند کہا باغ میں رہ پر اس بن
جی جو اچٹا تو کسو طرح لگایا نہ گیا
سرنشین رہ میخانہ ہوں میں کیا جانوں
رسم مسجد کے تئیں شیخ کہ آیا نہ گیا
حیف وے جن کے وہ اس وقت میں پہنچا جس وقت
ان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا
منتظر اس کے کرخت ہو گئے بیٹھے بیٹھے
جس کے مردے کو اٹھایا سو لٹایا نہ گیا
خطر راہ محبت کہیں جوں حرف مٹے
جس سے اس طرف کو قاصد بھی چلایا نہ گیا
خوف آشوب سے غوغاے قیامت کے لیے
خون خوابیدئہ عشاق جگایا نہ گیا
میر مت عذر گریباں کے پھٹے رہنے کا کر
زخم دل چاک جگر تھا کہ سلایا نہ گیا
میر تقی میر