ٹیگ کے محفوظات: چلاتا

ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 111
ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا حال دیکھ کر
اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب
اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آ گہی
تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام
پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسنِ بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا

رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا

دیوان سوم غزل 1078
یاد خط میں اس کے جی بھر آ کے گھبراتا رہا
رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا
کیا قیامت ہوتی بے پردہ ہوئے کیا جانیے
مصلحت ہی ہو گی ہم سے وہ جو شرماتا رہا
قدموزوں یار کا خاطر سے جاتا ہی نہیں
میں اسی مصرع کو ساری عمر ڈولاتا رہا
کل مکل بیتاب دل سے آج کل کی کچھ نہیں
میں تو اس غم کش کو بے کل ہی سدا پاتا رہا
آگ کھا جاتی ہے خشک و تر جو اس کے منھ پڑے
میں تو جیسے شمع اپنے ہی تئیں کھاتا رہا
میری تیری چاہ منھ دیکھے کی ہے جوں آرسی
آنکھ پھیری جس گھڑی پھر کاہے کا ناتا رہا
ہو گئے ہم محتسب کی بے شعوری سے اسیر
شیخ میں کچھ ہوش تھا میخانے سے جاتا رہا
لوگ ہی اس کارواں کے حرف نشنو تھے تمام
راہ چلتے تو جرس ہر گام چلاتا رہا
میر دیوانہ ہے اچھا بات کیا سمجھے مری
یوں تو مجھ سے جب ملا میں اس کو سمجھاتا رہا
میر تقی میر