ٹیگ کے محفوظات: چلائی

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات

دیوان دوم غزل 784
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

چاندکی شمع آخر بجھائی گئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 449
ایک امید کھڑکی سے آئی ، گئی
چاندکی شمع آخر بجھائی گئی
اپنے اندر ہی روتے سمندر رہے
کب کہانی کسی کو سنائی گئی
اس کے جانے پہ احساس کچھ یوں ہوا
اپنے پہلو سے اٹھ کر خدائی گئی
اپنے مژگاں میں آنسو پروتا رہا
یوں غزل بزم میں رات گائی گئی
تم یہود و نصاریٰ کی زرگاہ میں
بک گئے جب بھی بولی لگائی گئی
تم کرائے کے قاتل ہو حاکم نہیں
تم سے اپنوں پہ گولی چلائی گئی
آگ تھی غم کی منصور کافر نژاد
اس سے مسلم کی میت جلائی گئی
منصور آفاق