ٹیگ کے محفوظات: چس

مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں

دیوان پنجم غزل 1686
رساتے ہو آتے ہو اہل ہوس میں
مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں
درا میں کہاں شور ایسا دھرا تھا
کسو کا مگر دل رکھا تھا جرس میں
ہمیں عشق میں بیکسی بے بسی ہے
نہ دشمن بھی ہو دوستی کے تو بس میں
نہ رہ مطمئن تسمہ باز فلک سے
دغا سے یہ بہتوں کے کھینچے ہے تسمیں
بہت روئے پردے میں جب دیدئہ تر
ہوئی اچھی برسات تب اس برس میں
تن زرد و لاغر میں ظاہر رگیں ہیں
بھرا ہے مگر عشق اک ایک نس میں
محبت وفا مہر کرتے تھے باہم
اٹھا دی ہیں وے تم نے اب ساری رسمیں
تمھیں ربط لوگوں سے ہر قسم کے ہے
نہ کھایا کرو جھوٹی جھوٹی تو قسمیں
ہوا ہی کو دیکھیں ہیں اے میر اسیراں
لگادیں مگر آنکھیں چاک قفس میں
میر تقی میر

یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے

دیوان دوم غزل 999
یا بادئہ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے
یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے
شورش کدئہ عالم کہنے ہی کی جاگہ تھی
دل کیا کرے جو ایسے ہنگامے میں پھنس جاوے
دل ہے تو عبث نالاں یاران گذشتہ بن
ممکن نہیں اب ان تک آواز جرس جاوے
اس زلف سے لگ چلنا اک سانپ کھلانا ہے
یہ مارسیہ یارو ناگاہ نہ ڈس جاوے
میخانے میں آوے تو معلوم ہو کیفیت
یوں آگے ہو مسجد کے ہر روز عسس جاوے
چولی جہاں سے مسکی پھر آنکھیں وہیں چپکیں
جب پیرہن گل بھی اس خوبی سے چس جاوے
ہے میر عجب کوئی درویش برشتہ دل
بات اس کی سنو تم تو چھاتی بھی بھلس جاوے
میر تقی میر

اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی

دیوان اول غزل 464
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک
آتی اگرچہ دیر صداے جرس رہی
لطف قباے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز
دیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے
برسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی
ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوں
گردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے
فرصت رہی جو میر بھی سو یک نفس رہی
میر تقی میر

پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 406
جو پھیرتا تھا تہجد کے کینوس پہ وہ ہاتھ
پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ
بنا رہا ہے جو قوسِ قزح کی تصویریں
دکھائی دے مجھے بادل کے کارنس پہ وہ ہاتھ
نگار خانۂ جاں کی نمائشِ کُن میں
لکیر کھینچ رہا ہے برس برس پہ وہ ہاتھ
یہ سوچتے ہوئے میری کہاں علامت ہے
کبھی پروں پہ رکھے وہ ،کبھی قفس پہ وہ ہاتھ
کسی کو خواب میں شایدپکڑ رکھا تھا کہیں
جمے ہوئے تھے مسہری کے میٹرس پہ وہ ہاتھ
عجیب بجلیاں بھر دیں ، عجیب کیف دیا
بنامِ زندگی ،ہائے اک ایک نس پہ وہ ہاتھ
نئے وصال دکھاتی ہے رات بھر منصور
کچھ ایسے رکھتی ہے گزرے ہوئے قصص پہ وہ ہاتھ
منصور آفاق