ٹیگ کے محفوظات: چرچل

اس پرلکھا تھا نام بھی چرچل کا کیا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 64
کوئی یہاں پہ بورڈ تھا پیتل کا کیا ہوا
اس پرلکھا تھا نام بھی چرچل کا کیا ہوا
اس جگہ پہ تھا پارک جہاں پر مکان ہیں
اس موڑ پہ درخت تھا پیپل کا کیا ہوا
ہوتی تھی اس گلی میں کتابوں کی اک دکان
اسکول تھا یہاں پہ جو شیتل کا کیا ہوا
شیشم کے اس مقام پہ لاکھوں درخت تھے
جنگل یہاں پہ ہوتاتھا، جنگل کا کیا ہوا
قوسِ قزح کہاں گئی وہ آسمان سے
وہ دوپہر کے سرمئی بادل کا کیا ہوا
منصورہر گلی میں اڑے موسموں کی گرد
بارش کہاں چلی گئی جل تھل کا کیا ہوا
منصور آفاق