ٹیگ کے محفوظات: چتائیں

ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
تازہ مہک کی لِپٹیں، رِدائیں تلاش کر
ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر
جن کا مزہ ہو دیکھے مناظر سے بھی سوا
چھب جن کی اور ہو وُہ فضائیں تلاش کر
ہونٹوں سے تیرے نام پہ خُوشبو سی جو اُٹھیں
اور ہوں رسا جو ایسی دُعائیں تلاش کر
خوشامدوں پہ ہو جو بہم کام پر نہیں
اوروں سا تُو بھی ایسی قبائیں تلاش کر
جو کھو چکے ہیں نقش، خط و حرف میں وُہ ڈھال
جو دُور جا چکیں وُہ صدائیں تلاش کر
ایسی کہ فیض و غالب و منٹو جو دے گئیں
ایسی کہ پِھر نہ آئیں وُہ مائیں تلاش کر
ہو کے بھسم سِدھائیں جو بگڑوں کو جِیتے جی
ہاں بہرِ گُمرہاں وُہ چِتائیں تلاش کر
ماجد صدیقی

اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہم سے منسوب تھیں بے نام خطائیں جتنی
اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی
زخم بن بن کے اُبھرتی ہیں وُہی چہروں پر
زیرِ حلقوم دبکتی ہیں صدائیں جتنی
مرگِ افکار نہ اِس درجہ کہیں بھی ہو گی
ذہن میں روز بھڑکتی ہیں چتائیں جتنی
سر ہوئے تھے کبھی اِتنے تو نہ عریاں پہلے
آندھیاں لے کے اُڑیں اب کے ردائیں جتنی
داغ تھے زیرِ تب و تاب سبھی پر ماجدؔ
ہم نے دیکھیں سرِ ابدان قبائیں جتنی
ماجد صدیقی