ٹیگ کے محفوظات: چبھن

جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 14
کیف کھو دیتے ہیں صہبائے بدن، سنتے ہیں
جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں
موج بنتی ہے، بگڑتی ہے، فنا ہوتی ہے!
صبر دریا میں ہے اعصاب شکن سنتے ہیں
سنتے آئے ہیں تصور ہی شراکت کا نہیں
ایک معشوق ہے اور ایک عدن سنتے ہیں
کیوں تری یاد کے بستر سے مٹائیں شکنیں
قرب دلداروں کا ہے نیک شگن سنتے ہیں
کھڑکھڑاتے ہیں مرے صحن میں سوکھے پتّے
ان کے گیتوں کی صدا روح و بدن سنتے ہیں
ساغرِ خواب نہ ٹوٹے کسی نادانی سے
زندگی بھر نہیں جاتی یہ چبھن سنتے ہیں!
نینا عادل

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر