ٹیگ کے محفوظات: چبھن

اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی

کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی
اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی
اُڑ رہے ہیں شہر میں پتنگ رنگ رنگ
جگمگا اُٹھا گگن بسنت آ گئی
موہنے لبھانے والے پیارے پیارے لوگ
دیکھنا چمن چمن بسنت آ گئی
سبز کھیتیوں پہ پھر نکھار آ گیا
لے کے زرد پیرہن بسنت آ گئی
پچھلے سال کے ملال دل سے مٹ گئے
لے کے پھر نئی چبھن بسنت آ گئی
ناصر کاظمی

گل کیا غبارِ بوئے سمن کو ترس گئے

مدت ہوئی کہ سیرِ چمن کو ترس گئے
گل کیا غبارِ بوئے سمن کو ترس گئے
ہاں اے سکوتِ تشنگیٔ درد کچھ تو بول
کانٹے زباں کے آبِ سخن کو ترس گئے
دل میں کوئی صدا ہے نہ آنکھوں میں کوئی رنگ
تن کے رفیق صحبتِ تن کو ترس گئے
اِس عہدِ نو میں قدرِ متاعِ وفا نہیں
اس رسم و راہِ عہدِ کہن کو ترس گئے
منزل کی ٹھنڈکوں نے لہو سرد کر دیا
جی سُست ہے کہ پاؤں چبھن کو ترس گئے
اندھیر ہے کہ جلوۂ جاناں کے باوجود
کوچے نظر کے ایک کرن کو ترس گئے
ناصر کاظمی

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر