ٹیگ کے محفوظات: چبا

سُخن کی ہندہ ، مِرا کلیجا چبا رہی ہے

نئی روایت کا ناک نقشہ بنا رہی ہے
سُخن کی ہندہ ، مِرا کلیجا چبا رہی ہے
شجر پہ بیٹھے ہوئے پرندے اُڑا رہی ہے
ہوا درختوں کو ناچ گانا سِکھا رہی ہے
بڑے بزرگوں سے سُن رکھا ہے زمین زادی
مسافرانِ عدم کی حیرت بڑھا رہی ہے
ہماری قبروں پہ رونے والا کوئی نہیں ہے
ہماری قبروں کو دھوپ تکیہ بنا رہی ہے
سفید جوڑے میں سج سنور کر وہ شاہ زادی
خدائے حُسن و جمال کا دل لُبھا رہی ہے
زمیں خموشی سے چل رہی ہے فلکؔ اُٹھائے
مگر یہ ہجرت قدم قدم پر رُلا رہی ہے
افتخار فلک

مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 29
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں
کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاں
خبر اڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں
مآلِ عشقِ اناگیر ہے یہ مختصراً
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں
کوئی گھڑی ہے کہ ہوتا ہوں آستین میں دفن
میں دل سے بہتا ہوا آنکھ تک تو آ گیا ہوں
مرا تھا مرکزی کردار اس کہانی میں
بڑے سلیقے سے بے ماجرا کیا گیا ہوں
وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے عجب تحیّر سے
نجانے جھونک میں کیا کچھ اُسے بتا گیا ہوں
مجھے بھلا نہ سکے گی یہ رہگزارِ جنوں
قدم جما نہ سکا، رنگ تو جما گیا ہوں
سب اہتمام سے پہنچے ہیں اُس کی بزم میں آج
میں اپنے حال میں سرمست و مبتلا گیا ہوں
مرے کہے سے مرے گرد و پیش کچھ بھی نہیں
سو جو دکھایا گیا ہے وہ دیکھتا گیا ہوں
اُسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہُوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں
غزل میں کھینچ کے رکھ دی ہے اپنی جاں عرفان
ہر ایک شعر میں دل کا لہو بہا گیا ہوں
عرفان ستار

کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر

دیوان ششم غزل 1824
آیا جو اپنے گھر سے وہ شوخ پان کھاکر
کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر
شاید کہ منھ پھرا ہے بندوں سے کچھ خدا کا
نکلے ہے کام اپنا کوئی خدا خدا کر
کان اس طرف نہ رکھے اس حرف ناشنو نے
کہتے رہے بہت ہم اس کو سنا سنا کر
کہتے تھے ہم کسو کو دیکھا کرو نہ اتنا
دل خوں کیا نہ اپنا آنکھیں لڑا لڑا کر
آگے ہی مررہے ہیں ہم عشق میں بتاں کے
تلوار کھینچتے ہو ہم کو دکھا دکھا کر
وہ بے وفا نہ آیا بالیں پہ وقت رفتن
سو بار ہم نے دیکھا سر کو اٹھا اٹھا کر
جلتے تھے ہولے ہولے ہم یوں تو عاشقی میں
پر ان نے جی ہی مارا آخر جلا جلا کر
سوتے نہ لگ چل اس سے اے باد تو نے ظالم
بہتیروں کو سلایا اس کو جگا جگا کر
مدت ہوئی ہمیں ہے واں سے جواب مطلق
دفتر کیے روانہ لکھ لکھ لکھا لکھا کر
کیا دور میر منزل مقصود کی ہے اپنے
اب تھک گئے ہیں اودھر قاصد چلا چلا کر
میر تقی میر

اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے

دیوان پنجم غزل 1781
یارب کوئی دیوانہ بے ڈھنگ سا آجاوے
اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے
خاموش رہیں کب تک زندان جہاں میں ہم
ہنگامہ قیامت کا شورش سے اٹھا جاوے
کب عشق کی وادی ہے سر کھینچنے کی جاگہ
ہو سیل بھلا سا تو منھ موڑ چلا جاوے
عاشق میں ہے اور اس میں نسبت سگ و آہو کی
جوں جوں ہو رمیدہ وہ توں توں یہ لگا جاوے
افسوس کی جاگہ ہے یاں باز پسیں دم میں
ہو روبرو آئینہ وہ منھ کو چھپا جاوے
ان نو خطوں سے میری قسمت میں تو تھی خواری
کس طرح لکھا میرا کوئی آ کے مٹا جاوے
دیکھ اس کو ٹھہر رہنا ثابت قدموں سے ہو
اس راہ سے آوے تو ہم سے نہ رہا جاوے
کہیے جہاں کرتا ہو تاثیر سخن کچھ بھی
وہ بات نہیں سنتا کیا اس سے کہا جاوے
یہ رنگ رہے دیکھیں تاچند کہ وہ گھر سے
کھاتا ہوا پان آکر باتوں کو چبا جاوے
ہم دیر کے جنگل میں بھولے پھرے ہیں کب کے
کعبے کا ہمیں رستہ خضر آ کے بتا جاوے
ہاتھوں گئی خوباں کے کچھ شے نہیں پھر ملتی
کیونکر کوئی اب ان سے دل میرا دلا جاوے
یہ ذہن و ذکا اس کا تائید ادھر کی ہے
ٹک ہونٹ ہلے تو وہ تہ بات کی پا جاوے
یوں خط کی سیاہی ہے گرد اس رخ روشن کے
ہر چار طرف گاہے جوں بدر گھرا جاوے
کیا اس کی گلی میں ہے عاشق کسو کی رویت
آلودئہ خاک آوے لوہو میں نہا جاوے
ہے حوصلہ تیرا ہی جو تنگ نہیں آتا
کس سے یہ ستم ورنہ اے میر سہا جاوے
میر تقی میر

ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1318
اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آجاتا
ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا
تب تک ہی تحمل ہے جب تک نہیں آتا وہ
اس رستے نکلتا تو ہم سے نہ رہا جاتا
اک آگ لگا دی ہے چھاتی میں جدائی نے
وہ مہ گلے لگتا تو یوں دل نہ جلا جاتا
یا لاگ کی وے باتیں یا ایسی ہے بیزاری
وہ جو نہ لگا لیتا تو میں نہ لگا جاتا
کیا نور کا بکّا ہے چہرہ کہ شب مہ میں
منھ کھولے جو سو رہتا تو ماہ چھپا جاتا
اس شوق نے دل کے بھی کیا بات بڑھائی تھی
رقعہ اسے لکھتے تو طومار لکھا جاتا
یہ ہمدمی کا دعویٰ اس کے لب خنداں سے
بس کچھ نہ چلا ورنہ پستے کو چبا جاتا
اب تو نہ رہا وہ بھی طاقت گئی سب دل کی
جو حال کبھو اپنا میں تم کو سنا جاتا
وسواس نہ کرتا تھا مر جانے سے ہجراں میں
تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا
میر تقی میر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

دیوان سوم غزل 1133
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر
کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
تھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تو
مٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر
سعی و طلب بہت کی مطلب کے تیں نہ پہنچے
ناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر
غیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہو
مرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر
قدرت خدا کی سب میں خلع العذار آئو
بیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منھ چھپا کر
ارمان ہے جنھوں کو وے اب کریں محبت
ہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر
میں میر ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایا
درویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر
میر تقی میر