ٹیگ کے محفوظات: چادر

جس کے رخ پر گرد کی چادر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 133
باغ میں ایسا کوئی منظر نہیں
جس کے رخ پر گرد کی چادر نہیں
ہونٹ باہر کی ہوا سے خشک ہیں
دل وگرنہ اِس قدر بنجر نہیں
اُس کا ہونا اور نہ ہونا ایک ہے
جس قبیلے میں کوئی بُوذر نہیں
جب سے دیوانہ مرا ہے شہر میں
پاس بچوں کے کوئی پتّھر نہیں
کم نہیں کچھ اُس کی خُو کا دبدبہ
ہاتھ میں قاتل کے گو خنجر نہیں
بے حسی ماجدؔ! یہ چھَٹ جائے گی کیا
آپ کہہ لیں پر ہمیں باور نہیں
ماجد صدیقی

یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 15
سب میسّر ہے لیکن نہیں
یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں
روز لگتا ہے ایسا ہمیں
آج محشرہے ۔۔ لیکن نہیں
اُگ رہا ہے نظر میں سراب
ایک منظر ہے لیکن نہیں
یہ محبت بھری گفتگو!
کوئی منتر ہے لیکن نہیں
دوسروں سے مرا بے وفا
لاکھ بہتر ہے! لیکن نہیں
میری گردن پہ گو رات دن
نوکِ خنجر ہے لیکن نہیں
کج ادائی پہ ما ئل کوئی
میرے اندر ہے!! لیکن نہیں
نیند کے آخری موڑ تک
خواب رہبر ہے لیکن نہیں
باب در باب وہ داستاں
لاکھ ازبر ہے!! لیکن نہیں
توڑ دے وہم کی ہر فصیل
وقت پتھر ہے لیکن نہیں
پاؤں پھیلا رہی ہے طلب
تنگ چادر ہے لیکن نہیں
کب گزرتا ہے بچپن مرا
دل معمر ہے لیکن نہیں
نینا عادل

پہ فرط شوق سے مجھ کو ملال خاطر ہے

دیوان چہارم غزل 1517
جو بحث جی سے وفا میں ہے سو تو حاضر ہے
پہ فرط شوق سے مجھ کو ملال خاطر ہے
وصال ہووے تو قدرت نما ہے قدرت کا
نہ ہم کو قدر نہ قدرت خدا ہی قادر ہے
مسافرانہ ملے تو کہا شرارت سے
غریب کہتے ہیں لوگ ان کو یہ بھی نادر ہے
کسو سیاق سے تحریر طول شوق نہ ہو
زبان خامۂ لسّان اس میں قاصر ہے
بہم رکھا کرو شطرنج ہی کی بازی کاش
نہ میر بار ہے خاطر کا یار شاطر ہے
میر تقی میر

نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 286
ہر اِک تصوِیر کو کھڑکی سے باہر کیسے پھینکو گے
نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے
جھٹک کر پھینک دو گے چند اَن چاہے خیالوں کو
مگر کاندھوں پہ یہ رکھا ہوا سَر کیسے پھینکو گے
اگر اِتنا ڈروگے اَپنے سر پر چوٹ لگنے سے
تو پھر تم آم کے پیڑوں پہ پتھر کیسے پھینکو گے
خیالوں کو بیاں کے دائروں میں لاؤ گے کیوں کر
کمندیں بھاگتی پرچھائیوں پر کیسے پھینکو گے
کبھی سچائیوں کی دُھوپ میں بیٹھے نہیں اَب تک
تم اَپنے سر سے یہ خوابوں کی چادر کیسے پھینکو گے
تو پھر کیوں اُس کو آنکھوں میں سجا کر رکھ نہیں لیتے
تم اِس بیکار دُنیا کو اُٹھاکر کیسے پھینکو گے
عرفان صدیقی

اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 296
آنکھ بنو تم اور ہم منظر بن جائیں
اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں
ان پیروں سے کیسے گریزاں منزل ہو
جو آپ ہی رستہ آپ سفر بن جائیں
جن لوگوں کے بیج کجی سے نکلے ہوں
وہ کیسے سایہ دار شجر بن جائیں
گھل جائیں لہروں میں ایک سمندر کی
ریت پہ پھیلی دھوپ کی چادر بن جائیں
مار کے سورج کے سینے میں طنز کے تیر
خود نہ کہیں ہم ایک تمسخر بن جائیں
جنس کے بینر لٹکائیں بازاروں میں
اور فرائیڈ سے دانش ور بن جائیں
جو موجود نہیں تقویم کے اندر بھی
ان تاریخوں کا کیلنڈر بن جائیں
کچھ یاروں کی لاشیں گل سڑ جائیں گی
بہتر ہے منصور فریزر بن جائیں
منصور آفاق