ٹیگ کے محفوظات: پی

شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 144
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں ، پھر تیری یاد بھی گئی
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے ، عمر گزار دی گئی
اس کے وصال کے لئے ، اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی
تیرا فراق جانِ جاں ، عیش تھا کیا میرے لئے
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی
جون ایلیا

میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی

دیوان چہارم غزل 1497
ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی
میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی
ہاتھ دل پر زور سے اپنے نہ رکھا چاہیے
چاک کی چھاتی مری جراح نے سی ہے ابھی
ایک دم دکھلائی دیتا بھی تو مرتے آ کہیں
شوق سے آنکھوں میں کوئی دم مرا جی ہے ابھی
دیکھیں اک دو دم میں کیونکر تیغ اس کی ہو بلند
کوئی خوں ریز ان نے اپنی میان سے لی ہے ابھی
کس طرح ہوں معتقد ہم اتقاے شیخ کے
صبح کو رسم صبوحی سے تو مے پی ہے ابھی
آگے کب کب اٹھتے تھے سنّاہٹے سے باغ میں
طرز میرے نالے کی بلبل نے سیکھی ہے ابھی
زیر دیوار اس کے کس امید پر تو میر ہے
ایک دو نے جان اس دروازے پر دی ہے ابھی
میر تقی میر

کیا کریں ہم چاہتا تھا جی بہت

دیوان سوم غزل 1118
کوشش اپنی تھی عبث پر کی بہت
کیا کریں ہم چاہتا تھا جی بہت
کعبۂ مقصود کو پہنچے نہ ہائے
سعی کی اے شیخ ہم نے بھی بہت
سب ترے محو دعاے جان ہیں
آرزو اپنی بھی ہے تو جی بہت
رک رہا ہے دیر سے تڑپا نہیں
عشق نے کیوں دل کو مہلت دی بہت
کیوں نہ ہوں دوری میں ہم نزدیک مرگ
دل کو اس کے ساتھ الفت تھی بہت
وہ نہ چاہے جب تئیں ہوتا ہے کیا
جہد کی ملنے میں اپنی سی بہت
کب سنا حرف شگون وصل یار
یوں تو فال گوش ہم نے لی بہت
تھا قوی آخر ملے ہم خاک میں
آسماں سے یوں رہی کشتی بہت
آج درہم کرتے تھے کچھ گفتگو
میر نے شاید کہ دارو پی بہت
میر تقی میر

لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر

دیوان دوم غزل 817
اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر
جب تک شگاف تھے کچھ اتنا نہ جی رکے تھا
پچھتائے ہم نہایت سینے کے چاک سی کر
قصہ نہیں سنا کیا یوسفؑ ہی کا جو تونے
اب بھائیوں سے چندے تو گرگ آشتی کر
ناسازی و خشونت جنگل ہی چاہتی ہے
شہروں میں ہم نہ دیکھا بالیدہ ہوتے کیکر
کچھ آج اشک خونیں میں نے نہیں چھپائے
رہ رہ گیا ہوں برسوں لوہو کو اپنے پی کر
کس مردنی کو اس بن بھاتی ہے زندگانی
بس جی چکا بہت میں اب کیا کروں گا جی کر
حرف غلط کو سن کر درپے نہ خوں کے ہونا
جو کچھ کیا ہے میں نے پہلے اسے سہی کر
دن رات کڑھتے کڑھتے میں بھی بہت رکا ہوں
جو تجھ سے ہوسکے سو اب تو بھی مت کمی کر
رہتی ہے سو نکوئی رہتا نہیں ہے کوئی
تو بھی جو یاں رہے تو زنہار مت بدی کر
تھی جب تلک جوانی رنج و تعب اٹھائے
اب کیا ہے میر جی میں ترک ستمگری کر
میر تقی میر

روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 404
آگ تھی رنگ تھے اور مے تھی کہیں
روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں
سو گئی رات کے سائے گنتی ہوئی
جو ملاقات گلیوں میں طے تھی کہیں
میرے جیسا کوئی اور بیلے میں تھا
بانسری کی فسردہ سی لے تھی کہیں
شور تھا شہر میں عشق کاہر طرف
کوئی تازہ محبت کی نے تھی کہیں
اس کے اندر اترنا ہے گہرائی تک
سیکھتا جا کے ہوں ٹیلی پیتھی کہیں
جگمگاتی پھرے عشقِ منصور میں
کوئی سیتی کہیں کوئی کیتھی کہیں
منصور آفاق

حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 326
افسردگی کی پھیلتی جھاڑی تھی اور میں
حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں
ضد میں تھا کہ پہنچنا ہے بس دوسری طرف
ناقابل عبور پہاڑی تھی اور میں
بے سمت جا رہا تھا بہت ہی سپیڈ میں
پچھلا پہر تھا رات کا، گاڑی تھی اور میں
پہنے ہوئے تھاکوئی فقیرانہ سا لباس
اس کے بدن پہ قیمتی ساڑھی تھی اور میں
منصور سرد و گرم چشیدہ تھا ہجر میں
وہ بزمِ عاشقاں میں اناڑی تھی اور میں
منصور آفاق

صبر کا جام پی لیا ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 218
دل کا ہر زخم سی لیا ہم نے
صبر کا جام پی لیا ہم نے
کیسے انسان، کیسی آزادی
سر پہ الزام ہی لیا ہم نے
لو بدل دو حیات کا نقشہ
اپنی آنکھوں کو سی لیا ہم نے
حادثات جہاں نے راہ نہ دی
آپ کا نام بھی لیا ہم نے
اور کیا چاہتے ہیں وہ باقیؔ
خون دل تک تو پی لیا ہم نے
باقی صدیقی