ٹیگ کے محفوظات: پیکر

کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
وُہ مرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکھ کر
کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر
حرفِ حق پر ہے گماں کُچھ اور ہی
ہاتھ میں بچّوں کے پتھر دیکھ کر
کیا کہوں کھٹکا تھا کس اِنکار کا
کیوں پلٹ آیا ہُوں وُہ در دیکھ کر
آنکھ میں رقصاں ہے کیا سیندھور سا
آ رہا ہوں کس کا پیکر دیکھ کر
بال آنے پر جُڑے شیشہ کہاں
کہہ رہا ہے آئنہ گر، دیکھ کر
یاد آتا ہے وُہ کم آمیز کیوں
جیب میں مزدور کی زر دیکھ کر
دیکھنا ماجدؔ، دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
ماجد صدیقی

ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 39
جس دن سے اُس نگاہ کا منظر نہیں ہوں میں
ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں
بکھرا ہوا ہوں شہرِ طلب میں اِدھر اُدھر
اب تیری جستجو کو میسر نہیں ہوں میں
یہ عمر اک سراب ہے صحرائے ذات کا
موجود اس سراب میں دم بھر نہیں ہوں میں
گردش میں ہے زمین بھی، ہفت آسمان بھی
تُو مجھ پہ رکھ نظر کہ مکرر نہیں ہوں میں
ہوں اُس کی بزمِ ناز میں مانندِ ذکرِ غیر
وہ بھی کبھی کبھار ہوں، اکثر نہیں ہوں میں
تُو جب طلب کرے گا مجھے بہرِ التفات
اُس دن خبر ملے گی کہ در پر نہیں ہوں میں
ہے بامِ اوج پر یہ مری تمکنت مگر
تیرے تصرفات سے باہر نہیں ہوں میں
میں ہوں ترے تصورِ تخلیق کا جواز
اپنے کسی خیال کا پیکر نہیں ہوں میں
کر دے سلوکِ جاں سے معطر مشامِ جاں
چُھو لے مجھے کہ خواب کا منظر نہیں ہوں میں
عرفانؔ خوش عقیدگی اپنی جگہ مگر
غالبؔ کی خاکِ پا کے برابر نہیں ہوں میں
عرفان ستار

اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 70
اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے
اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے
جب تک رہی جگر میں لہو کی ذرا سی بوند
مٹھی میں اپنی بند سمندر لگا مجھے
مرجھا گیا جو دل میں اجالے کا سرخ پھول
تاروں بھرا یہ کھیت بھی بنجر لگا مجھے
اب یہ بتا کہ روح کے شعلے کا کیا ہے رنگ
مَرمَر کا یہ لباس تو سندر لگا مجھے
کیا جانیے کہ اتنی اداسی تھی رات کیوں
مہتاب اپنی قبر کا پتھر لگا مجھے
آنکھوں کو بند کر کے بڑی روشنی ملی
مدھم تھا جو بھی نقش، اجاگر لگا مجھے
یہ کیا کہ دل کے دیپ کی لَو ہی تراش لی
سورج اگر ہے ، کرنوں کی جھالر لگا مجھے
صدیوں میں طے ہوا تھا بیاباں کا راستہ
گلشن کو لوٹتے ہوئے پل بھر لگا مجھے
میں نے ا سے شریکِ سفر کر لیا شکیبؔ
اپنی طرح سے چاند جو بے گھر لگا مجھے
شکیب جلالی

قربِ منزل کے لئے مر جانا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 10
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
قربِ منزل کے لئے مر جانا
ہم بھی کیا سادہ نظر رکھتے تھے
سنگ ریزوں کو جواہر جانا
مشعلِ درد جو روشن دیکھی
خانۂِ دل کو منّور جانا
رشتۂِ غم کو غمِ جاں سمجھے
زخمِ خنداں کو گلِ تر جانا
یہ بھی ہے کارِ نسیمِ سحری
پتّی پتّی کو جدا کر جانا
اپنے حق میں وہی تلوار بنا
جسے اک پھول سا پیکر جانا
دشمنوں پر کبھی تکیہ کرنا
اپنے سائے سے کبھی ڈر جانا
کاسۂِ سر کو نہ دی زخم کی بھیک
ہم کو مجنوں سے بھی کم تر جانا
اس لیے اور بھی خاموش تھے ہم
اہلِ محفل نے سخن ور جانا
شکیب جلالی

سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 134
طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں
میں اور خود سے تجھ کو چھپاؤں گا ، یعنی میں
لے دیکھ لے میاں میرے اندر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ غم ہے ایک کوچہ گرد کا
دیوارِ بود کچھ نہیں اور گھر بھی کچھ نہیں
یہ شہرِ دارِ محتسب و مولوی ہی کیا
پیرِمغاں و رند و قلندر بھی کچھ نہیں
شیخِ حرم لقمہ کی پروا ہے کیوں نہیں
مسجد بھی اس کی کچھ نہیں ممبر بھی کچھ نہیں
مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اس دِیار میں
شاید وہ جبر ہے کے مقدر بھی کچھ نہیں
جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا
یہ اور بات ہے تیرا پیکر بھی کچھ نہیں
یہ شب کا رقص و رنگ تو کیا سن میرے کوہان
صبح شتاب کوش کا دفتر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ طور گماں کا بھی تہ با تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں ، منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو اک حالِ سکونِ ہمیشیگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا ، پر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفاِ عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جون شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے اور زباں پر بھی کچھ نہیں
جون ایلیا

رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 68
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے؟ کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
منہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا
در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
اس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب! گنبدِ بے در کھلا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 78
محبت کے ابد آباد میں اک گھر بنانا چاہتا ہوں
بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں
یہ لامحدود آزادی مگر میرے مقدر میں نہیں ہے
کہ میں دیوار میں دیوار جتنا در بنانا چاہتا ہوں
یہ آنسو جو بہت شوریدہ سر ہے، ضبط میں رکھا ہوا ہے
میں اس کی پرورش کر کے اسے گوہر بنانا چاہتا ہوں
کہیں امکان سے باہر نہ ہو یہ خواہشِ تعمیر میری
کہ میں دنیا کو دنیا سے ذرا بہتر بنانا چاہتا ہوں
زمیں پیرانہ سالی میں جھکے افلاک سے تنگ آ گئی ہے
نیا سورج، نئے تارے، نیا امبر بنانا چاہتا ہوں
یہ دنیا ان گنت اصنام کا اک بت کدہ لگتی ہے مجھ کو
انہیں مسمار کر کے ایک ہی پیکر بنانا چاہتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

نیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 282
رات اک شہر نے تازہ کئے منظر اپنے
نیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے
تم سرِ دشت و چمن مجھ کو کہاں ڈھونڈتے ہو
میں تو ہر رت میں بدل دیتا ہوں پیکر اپنے
یہی ویرانہ بچا تھا تو خدا نے آخر
رکھ دیے دل میں مرے سات سمندر اپنے
روز وہ شخص صدا دے کے پلٹ جاتا ہے
میں بھی رہتا ہوں بہت جسم سے باہر اپنے
کس قدر پاسِ مروت ہے وفاداروں کو
میرے سینے میں چھپا رکھے ہیں خنجر اپنے
کوئی سلطان نہیں میرے سوا میرا شریک
مسندِ خاک پہ بیٹھا ہوں برابر اپنے
عرفان صدیقی

گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 111
اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلو
گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو
تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد
شام ہونے کو ہے، اَب گھر کی طرف لوٹ چلو
اُس سے بچھڑے تو تمہیں کوئی نہ پہچانے گا
تم تو پرچھائیں ہو، پیکر کی طرف لوٹ چلو
ریت کی ہمسفری صرف کناروں تک ہے
اجنبی موجو، سمندر کی طرف لوٹ چلو
کتنے بے مہر ہیں اِس شہر کے قاتل عرفانؔ
پھر اُسی کوچۂ دِلبر کی طرف لوٹ چلو
عرفان صدیقی

وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہر چند میں قسمت کا سکندر تو نہیں تھا
وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا
یہ خون میں اِک لہر سی کیا دَوڑ رہی ہے
سایہ جسے سمجھے تھے وہ پیکر تو نہیں تھا
آنکھوں میں ہیں گزری ہوئی راتوں کے خزانے
پہلو میں وہ سرمایۂ بستر تو نہیں تھا
اِتنا بھی نہ کر طنز، تنگ ظرفئ دِل پر
قطرہ تھا، بہرحال سمندر تو نہیں تھا
غزلوں میں تو یوں کہنے کا دَستور ہے وَرنہ
سچ مچ مرا محبوب ستم گر تو نہیں تھا
یہ زَخم دِکھاتے ہوئے کیا پھرتے ہو عرفانؔ
اِک لفظ تھا پیارے، کوئی نشتر تو نہیں تھا
عرفان صدیقی

زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 216
صبحِ انساں کے منظر پہ لاکھوں سلام
زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام
جس میں رہتی تھی عرشِ کرم کی بہشت
کچی اینٹوں کے اُس گھر پہ لاکھوں سلام
جس پہ آرام کرتے تھے شاہِ عرب
اُس کھجوروں کے بستر پہ لاکھوں سلام
جس سے پیتے تھے پانی شہء دوسرا
اس گھڑے کے لبِ تر پہ لاکھوں سلام
جس نے کیڑوں مکوڑوں کا رکھا خیال
اُس حسیں پائے اطہر پہ لاکھوں سلام
جس کے گھر مال و زر کا چلن ہی نہ تھا
ایسے نادار پرور پہ لاکھوں سلام
جس قناعت نے بدلا نظامِ معاش
اس شکم پوش پتھر پہ لاکھوں سلام
اک ذرا سی بھی جنش نہیں پاؤں میں
استقامت کے پیکر پہ لاکھوں سلام
زر ضرورت سے زائد تمہارا نہیں
کہنے والے کرم ور پہ لاکھوں سلام
جس کے مذہب میں ہے مالِ ساکت حرام
اُس رسولِ ابوزر پہ لاکھوں سلام
جس نے اسراف و تبذیر تک ختم کی
اُس غریبوں کے سرور پہ لاکھوں سلام
منصور آفاق